امیر المومنین سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ

سیدنافاروق اعظم

پاکستان ٹائمز! اسلامی اورہجری سال کاآغازمحرم الحرام سے شروع ہوتاہے اس مہینے کی یکم اوردس تاریخ کو تاریخ اسلام کے دوسانحات رونماہوئے جن میں سے ابولولوفیروزکے ہاتھوں خلیفہ دوئم امیر المومنین سیدنافاروق اعظم کی شہادت کاسانحہ اوردوسراسانحہ کربلاہے ۔اس پس منظرمیںآج ہمارے اس مختصرکالم کاموضوع خلیفہ دوئم امیرالمومنین سیدنافاروق اعظم کی عظیم اورباکمال شخصیت ہیں۔

اعدل الاصحاب ، مزین منبر و محراب ، ثانی الخلفاء ، مرادِ مصطفی ، قدیم الاسلام ،کامران مقام، فارقِ حق و باطل ، امیرالمومنین ، پیکر شجاعت ، جبل استقامت، عاشقِ زارِ رسول اکرم ،سیدنا سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ وہ شخصیت ہیں، جنہیں رسول پر نور شافع یوم النشورصلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہِ خداوندی سے مانگ کر لیا تھا۔ قدرت نے ازل ہی سے آپ کو بانی اسلام کی تائید و نصرت اور دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے چن رکھا تھا۔ آپ اعلان نبوت کے چھٹے سال 27برس کی عمر میں حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔اسلام کے گلشن کو جن شہدائے اسلام نے اپنا قیمتی خون دے کر سدا بہار کیا، ان میں امیرالمومنین سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی سرفہرست ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ آسمان عدالت وشجاعت پر آفتاب بن کر چمکے اور اسلام کوعالم تاب و ماہ تاب بنا دیا۔جب سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے کلمۂ شہادت پڑھا تومسلمانوں نے نعرۂ تکبیر بلند کیا جس سے وادی مکہ گونج اٹھی۔

آپ کے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد پہلی دفعہ مسلمانوں نے خانہ کعبہ میں اعلانیہ اسلام کا اظہار کیا اورمشرکین مکہ یہ کہنے پرمجبور ہوئے کہ آج مسلمانوں نے ہم سے بدلہ لے لیا،آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد اور مسلمانوں کی عزت وشوکت میں ترقی ہوتی رہی۔آپ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ مشہور ہے، آپ چالیس مردوں اور گیارہ خواتین کے بعد اسلام لائے۔ اولین ہجرت کرنے والوں میں سے تھے،آپ کے اسلام لانے پر صرف اہل زمین ہی نہیں ، اہل آسمان نے بھی خوشی کے شادیانے بجائے اور جبرئیل امین نے اہل آسمان کی طرف سے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں مبارکباد پیش کی۔ سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا اسلام فتح مبین ، آپ کی ہجرت نصرت خداوندی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ انکا شجرئہ نسب 9ویں پشت میں کعب بن لوی پررسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے شجرئہ نسب سے مل جاتا ہے۔

آپ کا خاندان سارے عرب میں شرافت و نجابت اور عزت و عظمت کے اعتبار سے اہم اور خاص مقام و مرتبہ کا حامل تھا۔ قبیلہ قریش کی سفارت آپ ہی کے سپرد تھی۔ نزاعی امور میںآپ کا فیصلہ حرف آخر تسلیم کیا جاتا تھا۔ جسمانی و جاہت اور بلندوبالا قامت کی وجہ سے عرب کی ممتاز اور قدآور شخصیتوں میں نمایاں نظر آتے تھے۔ دنیا آپ کی جسمانی طاقت اور منہ زوری کا لوہا مانتی تھی۔ شہسوار میدان خطابت ہونے کے علاوہ شناور بحر فصاحت و بلاغت بھی تھے۔ صرف دورِ جاہلیت ہی میں نہیں، اسلامی تاریخ میں بھی آپ کو زریں بلب کی حیثیت حاصل ہے۔ آپ ان دس صحابہ کرام میں دوسرے نمبر پر ہیں، جنہیں انکی زیست میں ہی رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دے دی۔آپ رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 40 برس اور عام الفیل سے 13 برس بعد پیدا ہوئے ۔ آپ کا نام نامی اسم گرامی عمر ، فاروق بین الحق والباطل اور فاروق اعظم لقب ،

والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام فاطمہ تھا جو ہشام بن مغیرہ کی صاحب زادی تھیں ۔ام المومنین حضرت حفصہؓ کے نام پر ابو حفص کنیت تھی۔آپ کا قد لمبا، رنگ گندمی، پیشانی چوڑی اور داڑھی گھنی تھی۔ غزوئہ بدر، بیعتِ رضوان اور ہر معرکے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود رہے۔ غزوئہ بدر کے قیدیوں، پردہ، شراب کو حرام قرار دینے اور دیگر بہت سے معاملات میں قرآن کریم کی آیات آپ کی تائید میں نازل ہوئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ ’’علم الانساب‘‘ کے ماہر ، شہ زوری میں طاق اور گھڑسواری میں مشتاق تھے ۔ نیز آپ رضی اللہ عنہ کا شمار قریش کے ان گنے چنے افراد میں ہوتا تھا جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ ’’فن خطابت‘‘ کے بھی ماہر تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا ذریعہ معاش تجارت اور زمین داری رہا ۔ آمدنی فقرا، غلاموں ، مسکینوں اور مسافر ضرورت مندوں پر خرچ کردیا کرتے تھے ۔قبول اسلام :۔27سال کی عمر میں ابو جہل کی ترغیب پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے

ق ت ل کے ارادے سے گھر سے نکلے اور اپنی بہن فاطمہ رضی اللہ عنہا اور بہنوئی سعید بن زید رضی اللہ عنہ کی استقامت سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ یہ در اصل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا اثر تھا : اے ! اللہ اسلام کو عمرو بن ہشام (ابو جہل)یا عمر بن خطاب کے ذریعے عزت عطا فرما اسی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلاتے ہیں ۔ اسلام قبول کرنے والوں میں آپ کا 40 واں نمبر ہے ، جس طرح 40 سال کی عمر میں انسان ایک کامل شخص بن جاتا ہے ، اسی طرح آپ کے قبول اسلام سے دین اسلام کو نیا شباب عطا ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے 20 افراد کی معیت میں 13 نبوی میں مدینہ منورہ ہجرت کی اور قبا میں سیدنا رفاعہ بن منذررضی اللہ عنہ کے مکان میں قیام فرمایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مواخاتی بھائی سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ تھے۔غزوئہ بدر میں قریش کے سرغنہ عاص بن ہشام کو قتل کیا ،

غزوئہ احد میں آخر دم تک ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ، غزوئہ خندق میں خندق کے پار کفار کے حملوں کو پسپاکیا ، صلح حدیبیہ کی بعض شرائط پر ابتدامیں دل گیر تھے، تاہم بعد میں شرح صدر ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی ، غزوئہ خیبر میں قلعہ وطیع وسالم کو فتح کرنے کیلئے سیدناصدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے بعد آپ رضی اللہ عنہ کو بھیجا گیا ۔ فتح مکہ کے موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لینے پر مامور فرمایا ، غزوئہ تبوک کے موقع پر اپنے گھر کا آدھا مال لاکر خدمت اقدس میں پیش کردیا ۔ الغرض آپ رضی اللہ عنہ تمام غزوات میں نہ صرف شریک رہے بلکہ پیش پیش رہنے والوں میں شامل تھے۔آپ کا دورِ خلافت دین کی نشرواشاعت، اسلامی حکومت کی وسعت و انصاف کی فراوانی ، عوام کی خوشحالی اور اسلامی حکومت کی وسعت ، عدل انصاف کی فراوانی ،

عوام کی خوشحالی اور اسلامی علوم و فنون کی ترقی و ترویج کا دور تھا۔ باطل قوتیں آپ کے نام سے لرزہ براندام تھیں۔ جو دیکھتا وہ آپ کا رعب و دبدبہ اورجلال سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا، حتی کہ آپ کو دیکھ کر شیطان بھی اپنا راستہ بدل لیتا تھا۔ قرآن مجید کی متعدد آیات مبارکہ آپ کی رائے کی تائید میں نازل ہوئیں۔یار غارِ رسول سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ نے آپ کو خلیفہ منتخب فرمایا۔ 26ذی الحجہ 23ھ کو مجوسی غلام ابو لولو فیروز نے آپ پر قاتلانہ حملہ کیا اور یکم محرم 24ھ کو آپ نے جام شہادت نوش فرمایا۔ آپ کی مدت خلافت دس سال چھ ماہ اور چار دن ہے

Leave a Comment