ملیٹھی کا قہوہ اور صحت کے لیے اس کی حیران کن خوبیان

ملیٹھی کا قہوہ

ڈیلی ٹائمز! مُلیٹھی کا شُمار دُنیا کی قدیم ترین ادویات میں ہوتا ہے جسے طبیب حضرات ہزاروں سالوں سے بہت سی بیماریوں کے علاج استعمال کر رہے ہیں، طب ایوردیک اور طب یونان میں مُلیٹھی کے حیرت انگیز کمالات پر بیشمار فوک قصے اور کہانیاں پائی جاتی ہیں جنہیں جدید میڈیکل سائنس تسلیم نہیں کرتی۔ اس آڑٹیکل میں ملیٹھی کا قہوہ پینے کے فائدے شامل کیے جا رہے ہیں جن کے نتائج میڈیکل سائنس کی تحقیقات سے ثابت ہیں

اور ساتھ ہی اس پودے کے صحت پر پڑنے والے نقصانات کا ذکر کیا جائے گا تاکہ آپ اسے استعمال کرنے سے پہلے اس سے اچھی طرح آشنا ہو جائیں۔ مُنہ میں ملیٹھی چبانا گلے کی سوزش اور کھانسی کو آرام دیتا ہے، یہ سانس کی نالیوں میں جمی بلغم کو خارج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور سانس میں دُشواری کی بیماریوں میں آرام کا باعث بنتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مُلیٹھی کھانے کی بجائے اس کا قہوہ اس کے مضر اثرات کو دُور کر دیتا ہے اس لیے گلے کی سوزش، کھانسی اور سانس میں آرام کے لیے ملیٹھی کساتھ تھوڑے ادرک کو پانی میں اُبال لیں اور ذائقے کے لیے شہد ملا کر اسے استعمال کریں۔ ملیٹھی کے قہوے کا روزانہ استعمال ہمارے ایمیون سسٹم کو طاقت مہیا کرتا ہے اور اسے بیماریوں کے خلاف لڑنے میں فعال بناتا ہے، اس پودے میں شامل قُدرتی کیمیا ہمارے جسم کو مائیکروب، پلوٹنٹ، الرجن وغیرہ سے بچانے میں مفید ہیں

اور یہ ہماری قوت مدافعت کو آٹو ایمیون جیسی بیماریوں کا شکار نہیں ہونے دیتا۔ ہمارے جسم کی 80 فیصد قوت مدافعت کا تعلق ہمارے نظام انہظام سے ہے اور ملیٹھی کے قہوہ میں پودوں سے حاصل ہونے والے ایسے کمپاونڈز شامل ہوتے ہیں جو ہمارے ہاضمے کو تیز کرتے ہیں، معدے میں تیزابیت کا خاتمہ کرتے ہیں، معدے کے السر اور پیٹ درد وغیرہ میں آرام کا باعث بنتے ہیں۔اس پودے کا قہوہ ہماری جلد کے لیے بھی مُفید ثابت ہوتا ہے اور اگر ملیٹھی کو پیس کر اس کے پاوڈر کو عرق گُلاب اور اگر جلد خُشک ہو تو دُودھ میں شامل کرکے جلد پر ملا جائے تو یہ جلد کو چمکدار بناتا ہے اور جلد کی نمی کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ میڈیکل سائنس کا ماننا ہے کہ اس جڑ میں سوزش اور درد کو ختم کرنے کی خوبیاں شامل ہیں اس لیے جوڑوں کے درد یا جسم میں اندرونی اور بیرونی سوزش کے نتیجے میں ملیٹھی کا قہوہ کسی اکسیر سے کم نہیں۔

ملیٹھی خواتین کے ہارمون بیلنس کو دُرست رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے اور یہ ماہواری کے مسائل جیسے بے نیندی، ڈپریشن، مُوڈ خراب ہونا اور پسینہ آنے جیسی مشکلات کو آرام پہنچاتا ہے۔اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیوں کی مالک ملیٹھی ہمارے جسم کو کینسر سے بچانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے خاص طور پر خواتین میں چھاتی اور مردوں میں پروسٹیٹ کے کینسر کو سُست بناتی ہے۔ ملیٹھی میں ایسی اینٹی بیکٹریل خوبیاں بھی شامل ہیں جو دانتوں میں کیڑا لگانے والے بیکٹریا اور بدبو پیدا کرنے والے جراثیم کا خاتمہ کرتے ہیں۔ میڈیکل سائنس کے جانوروں پر کیے گئے کئی تجربات جس میں اُنہوں نے ملیٹھی کو جانوروں کی خوراک کا حصہ بنایا کے نتائج کے مُطابق ملیٹھی کا روزانہ استعمال خون میں شوگر لیول کو نارمل رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، یہ جگر کو تقویت دینے کیساتھ ہیپاٹائٹس سی کے علاج میں مُفید چیز ہے اور جسم کی جمی ہُوئی چربی کو پگھلاتا ہے

اور موٹاپا کم کرتا ہے۔امریکی ادراے ایف ڈی اے کے مُطابق ملیٹھی کا استعمال کرنا اور اس کی مناسب مقدار کو روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا محفوظ ہے مگر اگر اسے زیادہ مقدار میں کھا لیا جائے تو یہ کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے جس میں بلڈ پریشر کا بڑھنا، پوٹاشیم لیول گرنا، مسلز کا کمزور ہونا اور دل کی دھڑکنوں کا بے قابو ہونا وغیرہ شامل ہے اس لیے اگر آپ ملیٹھی کے سپلیمنٹ استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کر لیں۔

Leave a Comment