یہ دعا میری امت سیکھ لےکوئی غم پریشانی یا مصیبت کوئی مسئلہ حل نہ ہو رہا

میری امت

ڈیلی ٹائمز! بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔۔۔دعاؤں کی قبولیت کے لئے حضرت یونس ؑ کی اس دعا کو ہمیشہ اہمیت حاصل رہی ہے جو آپؑ نے مچھلی کے پیٹ میں قید رہتے ہوئے کی۔اس بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اکرمﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا’’ کیا تمہیں اسم اعظم کی راہنمائی کروں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالی کو پکارنے سے دعا مستجاب ہوجاتی ہے اور وہ دعا جناب یونسؑ کی دعا ہے

جس نے تاریکیوں میں آواز دی ’’ لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین ‘‘یہ دعا صالحین نے ہمیشہ یاد رکھی اور تسبیحات کا معمول رکھی،اولیاء کریم،فقرا وعارفین نے اسکے اذکار سے منازل عشق طے کیں۔اس دعا کا سبب کیا تھا ؟ واقعہ یوں ہے کہ حضرت یونس ؑ نے ایک طویل عرصے تک لوگوں کو توحید کی طرف دعوت دی لیکن لوگ صحیح راستے پر نہ آئے بلکہ اپنے کفر پر ضد کرتے رہے تو وہ قوم کی بے ایمانی سے عاجز آکر ناراض ہوکر آبادی سے باہر نکل گئے اور قوم کو عذاب کے حوالے کردیا تھا تو خدا نے انہیں کشتی کے ذریعہ مچھلی کے شکم تک پہنچادیا۔ اس دعا کے شان نزول کو سمجھتے ہوئے مصائب اور روزمرہ زندگی میں ہونے والی خطاؤں کی وجہ سے یہ آیت کریمہ پڑھتے رہنی چاہئے ۔اس میں بھلائی اور ترقی کی ضمانت ہے راستے کی ہر رکاوٹ بھی دور جاتی ہے۔ حضرت یونس کو مچھلی کے پیٹ کی قید میں رہنا پڑا

تو انہوں نے اس ترک اولی کا اعتراف کر کے توبہ کی کہ مجھے قوم کو لاوارث نہیں چھوڑنا چاہئے تھا اگر میں ایسا نہ کرتا تو خدا مجھے مچھلی کے حوالہ نہ کرتا۔ آپ ؑ نے مچھلی کے شکم کی تاریکیوں میں آواز دی ’’پروردگار ! تیرے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے تو پاک و بے نیاز ہے اور میں اپنے نفس پر ظلم کرنے والوں میں سے تھا ‘‘ تو اللہ نے ان کی دعا کو قبول کرلیا اور انہیں غم سے نجات دے دی اور حضرت یونس ؑ قوم کے پاس پلٹ گئے اور قوم بھی جناب یونس کے گرد جمع ہوکر راہ توحید پر گامزن ہوگئی۔اللہ تعا لیٰ کی معجز نما آیت ہے جو بے پناہ برکتوں والی ہے ۔ آئیے اس آیت کی برکتوں کے خزانوں پر نظر ڈالتے ہیں جن کو ہماری ظاہری آ نکھ دیکھ سکتی ہے اور مخفی پروردگار عالم خبیر جانتا ہےحضرت حبیب بن مَسلَمہ فَہریؓ مستجابُ الدعوات صحابی تھے، انھیں ایک لشکر کا امیر بنایا گیا۔ انھوں نے ملکِ روم جانے کے راستے تیار کرائے۔

جب دشمن کا سامنا ہوا تو انھوں نے لوگوں سے کہا: میں نے حضورﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو جماعت ایک جگہ جمع ہو اور ان میں سے ایک دعا کرائے باقی سب آمین کہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی دعا ضرور قبول فرمائیں گے۔مجلس کے اختتام پر اجتماعی دعا ثابت ہے اور یہ قبول ہوجاتی ہے، لیکن جہاں خصوصیت سے یہ دعا ثابت نہ ہو اس کو سنت سمجھ کر نہیں کرنا چاہیے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے رب سے روایت بیان کرتے ہوئے فرمایا: ایک بندے نے گناہ کیا پھر (بارگاہِ الٰہی میں) عرض کیا:اے اللہ! میرے گناہ کو بخش دے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا ہے اور اُسے یقین ہے کہ اس کا رب گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (سُو اﷲ تعالیٰ اُسے بخش دیتا ہے) پھر دوبارہ وہ بندہ گناہ کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! میرا گناہ معاف کر دے

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا ہے۔اسی حوالے سے آج آپ کو ایسا عمل بتانے جا رہے ہو جس کے کرنے سے آپ کی تمام مشکلات مصیبتیں ہر قسم کے مسائل حل ہو جائیں گے ۔لا الٰہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔ دوستو اس عمل کو اپنا معمول بنا لیں ہر وقت اس آیت کا ورد کیا کریں ان شاء اللہ کوئی مصیبت کوئی مشکل پریشانی ہوگی وہ حل ہو جائے گی۔ انسان تنگی میں تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرتاہے، لیکن فراخی میں غفلت کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان کی اسی طبیعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ لیٹے بیٹھے اور کھڑے ہوئے (ہر حالت میں) ہمیں پکارتے ہیں، پھر جب ہم اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو اس طرح چل کھڑا ہوتا ہے جیسے کبھی اپنے آپ کو پہنچنے والی کسی تکلیف میں ہمیں پکارا ہی نہ تھا۔ جو لوگ حد سے گزر جاتے ہیں

انھیں اپنے کرتوت اسی طرح خوش نما معلوم ہوتے ہیں لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم انھیں اپنی رحمت چکھا دیں تو اچانک ہماری آیتوں کے بارے میں مکر کرنے لگتے ہیں۔ آپ فرما دیجیے کہ بلاشبہ اللہ مکر کی سزا جلد ہی دینے والا ہے ۔ بلاشبہ ہمارے فرشتے تمھارے مکر کے کاموں کو لکھ لیتے ہیں۔’وہ اللہ ہی تو ہے جو تمھیں خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی سفر کراتا ہے، یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو، اور یہ کشتیاں لوگوں کو لے کر خوش گوار ہوا کے ساتھ پانی پر چلتی ہیں اور لوگ اس بات پر مگن ہوتے ہیں تو اچانک ان کے پاس ایک تیز آندھی آتی ہے اور ہر طرف سے ان پر موجیں اٹھتی ہیں اور وہ سمج

Leave a Comment