بچہ پیدا ہونے کے بعد میاں بیوی یہ ایک غلطی لازمی کرتے ہیں

بچہ پیدا ہونے کے بعد میاں بیوی

پاکستان ٹائمز! بچہ پید ا ہونے کے بعد خ ون آتا ہے۔ اسے نفاس کہا جاتا ہے۔ کم سے کم اس کی کوئی معدت متعین نہیں ہے۔ دو دن بعد بھی ختم ہوسکتا ہے۔ تین دن بعد بھی بندہو سکتا ہے۔ اور چار دن بعد بھی بند ہوسکتا ہے اور دس دن بعد بھی بند ہوسکتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن مدت ہے ۔ کم سے کم تین دن اور زیاد ہ سے زیادہ چالیس دن ۔ لیکن حیض کی کم از کم مدت تین دن کی ہے۔ نفاس کی کم سے کم مدت کوئی مدت متعین نہیں ہے۔

اور زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے۔ اور اگر چالیس دن کے بعد بھی نفاس کا خ ون آتا ہے تو اس کو بیماری کا خ ون تصور کیا جائے گا۔ عورت اس میں ہر نماز میں پاک ہو کر وضو کرکے نماز ادا کرے گی۔ اب جو بچہ پیدا ہونے کے بعد خ ون آتا ہے ۔ بعض اوقات دس دن بعدرک جاتاہے بعض اوقات بیس دن رک جاتاہے۔ بعض اوقات تین دن کے بعد رک جاتاہے۔ اس کے اندر عورتیں کیا کیا غلطیاں کرتی ہیں۔ کہ وہ یہ کرتی ہیں ۔ کہ چالیس دن پور ا کرتی ہیں۔ یہ بات غلط ہے کہ پورا چالیس دن کرنے کی کیا تک ہے؟ چالیس دن کرلیں۔ کسی طور پر ضرور ی نہیں ہے۔ اب اگر چالیس دن بعد خ ون آئے گا۔ اب وہ کیا غلطی کرتی ہیں۔ وہ یہ کرتی ہیں کہ یہ چالیس دن پورے کرنے ہیں۔یہ بات غلط ہے کہ چالیس دن پورے کرنے لازم نہیں ہے۔ اگر آپ کا خ ون بند دس دن کے بعد ہوجاتاہے۔ تو آپ پر لازم ہے کہ جب دس دن بعد آپ کو خ ون بند ہوجائے تو اس خ و ن کے بعد پاک ہونے کے بعد غسل کرکے آپ نماز ادا کریں۔

اور میاں بیوی ازدواجی تعلق قائم کرسکتے ہیں۔ یہاں پر آپ کے پاک ہونے کے اوپر ہے۔ کہ آپ دس دن میں پاک ہوجاتی ہیں۔ یا بیس دن میں پاک ہوجاتی ہیں۔ اب جب بھی پاک ہوجاتی ہیں کہ آپ پر لازم ہے کہ آپ پر غسل کرکے نماز ادا کریں۔ اب حالت نفاس میں میاں بیو ی اکٹھے لیٹ سکتے ہیں۔ بوسہ کنا ر کرسکتے ہیں۔لیکن ناف سے لے کر گھٹنوں تک منع کیا گیا ہے۔ حدیث مبارک میں بیا ن ہے: کہ آپ موٹا سا کپڑا پہن لے،عورت موٹا سا کپڑا پہن لے اور مرد بوسہ کنا رفائدہ حاصل کر لے لیکن دوخل نہ ہوجائے۔ یہاں سے فائدہ حاصل کرنا صیحح ہے۔جسم کے کسی بھی حصے سے فائدہ حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن صرف بوسہ کنارہ کرلے۔ کچھ بھی کرسکتا ہے۔ لیکن ناف سے لے کر گھٹنوں تک منع کیا گیا ہے۔ عورت کےلیے چاہیے کہ کوئی موٹا سا کپڑا پہن لے۔ تاکہ دوخل نہ ہو ۔ اس دوران کوئی موٹا کپڑا لے لیا ہے تو دوخل ہونے کا خدشہ ہے۔ تو دوخل نہ ہو پائے۔

ا ب مرد بوسہ کنار سے فائد ہ حاصل کر سکتا ہے۔ ایک حدیث ہے کہ حضرت ام سلمہٰ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں۔ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک شریعی پابندیوں سے مستثنی ٰ رہتی ہیں۔ اس حدیث سے معلو م ہوتا ہے کہ نفاس کی مدت زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے۔ اگر اس سے زیادہ خ ون آئے گا تو اس کو استخصا ء سمجھا جائے گا۔ نفاس کا خ ون آپ کو دو دن بعد یا دس دن بعد بند ہوجاتاہے ۔ تو غسل کرنے نماز ادا کرسکتی ہے۔اگر ڈلیوری کے بعد بھی خ ون آرہا ہے تو اس کو استخصاء میں شمار کیا جاتا ہے اگر خ ون آنا بند ہوجائے تو غسل کرکے نماز ادا کر سکتی ہے

Leave a Comment