لڑکیاں خود کو کیسے سکون دیتی ہیں؟

لڑکیاں

ڈیلی ٹائمز! کتنی ہی عورتیں اور لڑکیا ں اس بری عادت میں پڑچکی ہیں۔ اور اپنی زندگی کو خراب کر رہی ہیں۔ مردوں میں تو آپ نے م۔ش۔ت زن۔ی سنا ہوگا۔ لیکن یہ بری عادت لڑکیوں اور عورتوں میں پائی جانے لگی ہے اور مزے کی بات کیا ہے ؟ یا افسوس کی بات کیا ہے؟ یہ عادت کم عمر لڑکیوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ زیادہ عادت جو ہے وہ سولہ سال سے بیس سال کی عمرمیں پائی جاتی ہے۔ اگر حیض آنا شروع آجاتے ہیں۔

آجکل غلط مواد دیکھ کر یا سہیلیوں سے ایسی بات کر لیتی ہیں۔ یا گھر میں شادی شدہ کا ہونا ۔ ان سے ایسی بات کرتے ہیں جن سے ان کی شہ۔وت جاگ جاتی ہے۔ وہ ذاتی والے طریقے کےپاس چلی جاتی ہیں۔ موویز دیکھنا اور خود کو فارغ کرنا۔ یا خود کے پس۔تا ن دب۔انا۔ یاکچھ چیزوں سےکھیلنا ۔ اور خود کو فارغ کرناہوتا ہے۔ یہ جو لڑکیوں کے اندر برا ئی پیداہو رہی ہے۔ یہ بہت بری عادت ہے۔ اور گ۔نا ہ کے راستے پر لے کر جارہی ہے۔ اور یہ گ۔ناہ کبیرہ ہے ۔ اب عورتیں بھی ایسی لت پر پڑی ہوئی ہیں۔ جو لڑکیاں جو ابھی کنواری ہیں وہ اگر یہ حرکت کرتی ہیں تو ان سے ان کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سب سےپہلے ان کے اندر شروم حیا اور جھجک ختم ہوجائے گی۔مانا کہ یہ جذبہ اللہ تعالی ٰ نے سب میں رکھا ہوا ہے۔ جس سے شہ۔وت جاگتی ہے۔ جس سے قربت کا عمل ہوتاہے ۔ لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتاہے جو قدرت نے مقرر کر رکھا ہے۔

وقت سے پہلے کسی چیز کا غلط استعمال بربادی کی طرف لے جاتاہے۔ ہمارے ہاں جو شادی شدہ جوڑا جو قربت کرتا ہے تو خ ون آنا ایک کنوارے پن کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ اب اگر آپ نے خود سے ایسی حرکت کی ہے اور شادی کی رات خ ون نہیں آتا تو شوہر شورمچاتا ہے اکثر انہیں باتوں کی وجہ سے شوہر طلاق دے دیتاہے۔ اور گھر ٹوٹ بھی جاتا ہے۔ قر آن مجید میں بھی ہے کہ عورتوں اور مردوں کو اپنی شرم۔گ۔اہ کی حفاظت کرنی چاہیے۔ اور اسکے کیا اثرات ہوتے ہیں چہرے پر دانے نکل آتے ہیں۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے نکل آتے ہیں۔ ایسی تمام کنواری لڑکیوں سے درخواست ہے کہ اپنے ہاتھوں سے زندگی کو خراب نہ کریں۔ جو چیز جس جگہ آ پ کو ملنی ہے وہ آپ کو ضرور ملے گی۔ کچھ کے ساتھ یہ معاملہ ہوتاہےجو شادی شدہ عورتیں ہوتی ہیں۔ کہ غلط مواد دیکھ کر گمراہ ہوتی ہیں۔ اور اس وجہ سے وہ اپنے شوہر سے بھی یہی توقعات رکھتیں ہیں۔

وہی توقع رکھتی ہیں کہ چالیس منٹ اور آدھے گھنٹے والی قربت کرے۔۔لیکن ایک نارمل لائف میں یہ ممکن نہیں ہوتا ہے۔ پندرہ سے بیس منٹ ٹائمنگ کو سمجھا جاتا ہے۔ اوروہ شوہر سے دور بھاگتی ہیں اورخود سے اپنے آپ کو فارغ کرتی ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے شوہر سے مطمئن نہیں ہوپاتی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہم مختلف بیماریوں کا شکا ر ہوجاتے ہیں۔ پٹھوں میں کھنچاؤ آجاتاہے۔ اعصابی کمزوری آجاتی ہے ۔ نظر کی کمزوری ہوجاتی ہے۔ آنکھوں کےگر د سیاہ حلقے ہوجاتے ہیں۔ اور سکن خراب ہوجاتی ہے۔ وضواور نمازوں میں بہتری یاوہ عمدگی نہیں رہتی ہے

Leave a Comment