فیس بک، گوگل اور یوٹیوب ٹیکس دیں یا پاکستان میں سروس بند کریں

فیس بک، گوگل اور یوٹیوب

ڈیلی ٹائمز! ایف بی آر کا کہنا ہے کہفیس بک، گوگل اور یوٹیوب ٹیکس دیں یا پاکستان میں سروس بند کریں، ایف بی آر نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کو متنبہ کیا ہے کہ وہ گوگل، فیس بک اور یو ٹیوب کو ٹیکسز کی ادائیگی کے بغیر پاکستان میں کام کی اجازت نہیں دیں گے۔ دوسری جانب ایوان بالاء کی کمیٹی برائے اطلاعات میں انکشاف ہوا ہے کہ حکومت نے اپنے دفاع کے لیے ڈیجیٹل میڈیا ونگ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے،

اشتہارات کو مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تقسیم کرنے کی نئی پالیسی پر کام کیا جارہا ہے، بھارتی منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لئے اقدامات کیے جارہے ہیں جبکہ بین الاقوامی ایشوز کو مقامی میڈیا پر چلانے کے لئے میکانزم ناگزیر ہے تفصیلات کے مطابق ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کے اندر ڈیجیٹل میڈیا ، سوشل میڈیا کے طریقہ کار اور مستقبل کے منصوبہ جات پر بات ہوئی اس موقع پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ گوگل اور فیس بک پر ایک سال میں 8 ارب کی ایڈورٹائزنگ ہوئی ہےفواد چوہدری نے مزید کہا کہ پاکستان میں فی الوقت 93 ملین انٹرنیٹ صارفین موجود ہیں جبکہ یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

اسی رحجان کو مدنظر رکھتے ہوئے، ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ پالیسی بنائی گئی ہے فی الحال وفاقی حکومت کی ڈیجیٹل میڈیا ایڈورٹائزمنٹ کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں۔ منظوری کے بعد یہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی پہلی پالیسی ہو گی جس کے تحت وزارت اطلاعات و نشریات کے ذریعے حکومت ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تشہیر کر سکے گی۔کمیٹی کو مزید بتایا گیا کہ کو ڈیجیٹل میڈیا ڈویلپمنٹ پروگرام کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس کثیر جہتی پروگرام کے نتیجے میں پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا کی ترقی و ترویج اور نچلی سطح تک ڈیجیٹل خواندگی کا فروغ ممکن ہو گا۔فلم انڈسٹری کی تنزلی پر بات کرتے ہوئےفواد چوہدری نے کہا کہ کمیٹی فلم پالیسی پر بھی بریفنگ لے اور فلم پروڈیوسر ایسوسی ایشن سے ملاقات کرے جبکہ حکومت ڈیجیٹل میڈیا ونگ کو سرکاری نیوز ایجنسی میں ضم کرنے جارہے ہیں

ہمارا مقامی میڈیا پر عالمی ایشوز پر ذیادہ توجہ نہیں دی جاتی اس حوالے سے اقدامات کی اشد ضرورت ہے جبکہ ہمارے میڈیا پر انڈیا پر بھی بات نہیں ہوتی ہمیں ٹرینڈز تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور بھارتی منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے کام کرنے کی کوشش کی جا رہی اور پالیسیاں بنا رہے ہیں اس موقع پر فواد چوہدری نے کہا کہ اسامہ بن لادن نے ہم سے پوچھ کر تو نیویارک میں بم نہیں مارا مگر اس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑا،دو کروڑ 40 لاکھ ہاؤس ہولڈ ٹی وی دیکھتے ہیں۔ 54 فیصد لوگ سپورٹس چینل دیکھ رہے ہیں،دوسرے نمبر پر انٹرٹینمنٹ چینل دیکھے جارہے ہیں دس سے پندرہ فیصد لوگ نیوز چینل دیکھ رہے ہیں،ایجوکیشنل چینل پر لینڈنگ رائٹس فیس کو زیرو کر دیا ہے،کیبل کو ڈیجیٹلائز کر دیا ہے کابینہ نے پالیسی کی منظوری دے دی ہیکیبل آپریٹر کو اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ مواد خرید کر چلا سکے گا،

پاکستان براڈ کاسٹرز کارپوریشن ایک ارب کی پنشن کے بقایاجات ہیں جبکہ ریڈیو کی اربوں کی پراپرٹی کو استعمال میں لانا ہے،نیشنل پریس ٹرسٹ کی بلڈنگز بینکوں کے قبضے میں ہیں فواد چوہدری نے مزید کہا کہا سرکاری اراضی سے قبضے واگزار کرانے کیلئے قانون لا رہے ہیں،سرکاری اداروں کی نااہلی چھپانے کیلئے عوام پر مزید ٹیکس نہیں لگا سکتے،ایڈورٹائزنگ پالیسی مکمل کر لی ہے اسے کابینہ میں لیکر جارہے ہیں،ایڈورٹائزنگ پالیسی میں پہلی مرتبہ ڈیجیٹل ایڈورٹائزنگ کو بھی شامل کیا گیا ہےکمیٹی اجلاس میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل جاوید سمیت، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری سینیٹر کامران مائیکل،سینیٹر طاہر بزنجو، انور لال دین اور سیکرٹری کمیٹی حفسا فاروق سمیت ریڈیو پاکستان اور محکمہ اطلاعات کے اعلی افسران شریک ہوئے۔

Leave a Comment