آپﷺ نے فرمایا سوتے وقت یہ عمل کرو پھر دیکھو کیا ہوتا ہے

سوتے وقت

ڈیلی ٹائمز! حضرت براء بن عاز ب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایاکہ : جب تم اپنے بستر پر لیٹنے آؤ تو اس طرح وضو کرو۔ جس طرح نماز کے لیے کرتے ہو۔ پھر داہنی کروٹ پر لیٹ کر یوں کہوں۔” اللھم اسلمت وجھی الیک وفوصت امری الیک والجات ظہری الیک رغبۃ ورھبۃ الیک لاملجا ولا منجا منک الا الیک اللھم امنت بکتابک الذی انزلت، وبنبیک الذی ارسلت ” ترجمہ : اے اللہ! میں نے اپنا چہرہ تیری طرف جھکا دیا۔

اپنا معا ملہ تیرے ہی سپر د کردیا میں نے تیرے ثواب کی توقع او رتیرے ع ذاب کے ڈر سے تجھے ہی پشت پناہ بنا لیا۔ تیرے سوا کہیں پناہ اور نجات کی جگہ نہیں۔ اے اللہ! جو کتاب تو نے نازل کی میں اس پر ایمان لایا۔ جو نبی تو نے بھیجا میں اس پر ایمان لایا” ۔ تو اگر اس حالت میں اسی رات مرگیا توفطرت پر مرے گا۔ کتنا زبردست عمل ہے۔ کتنا زبردست انعام ہے۔ آپ نے کرنا کیا ہے؟ ایک دفعہ وضو کرنا ہے۔ دائیں کروٹ سنت کے مطابق سونا ہے اور اس دعا کو پڑھ لینا ہے۔ اور اس دعا کو کہیں لکھ لیں۔ یاد کرلیں۔ اور اس کو ہمیشہ کی عادت بنالیں۔ اس کا انعام کیا ہے؟ اسی حالت میں اگر م و ت آگئی تو انسان فطرت پر مرےگا۔ حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ ہم نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا: آپؐ ہم کو دوسرے ملک والوں کے پاس بھیجتے ہیں ہم ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں جو ہماری ضیافت تک نہیں کرتے تو آپؐ کیا فرماتے ہیں؟ آپؐ نے فرمایا اگر تم کسی قوم کے پاس جاکر اترو۔ وہ جیسے دستور ہے اتنی تمہاری مہمانی کرنے کا حکم دیں تو خیر ورنہ ان سے اپنی مہمانی کا حق وصول کرلو۔حضرت ابی شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے فرمایا: جس شخص کا اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان ہو اسے چاہئے کہ وہ اپنے مہمان کی عزت کرے اوراس کی مہمان نوازی کا اہتمام کرے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا اے اللہ کے رسول ﷺ اس کی مہمان نوازی کا اہتمام کب تک کریں؟ آپؐ نے فرمایا ایک دن اور ایک رات تک اور پھر 3دن تک اس کی عام مہمان نوازی کرے

۔ اس کے بعد بھی اگر رہے تو وہ اس پر صدقہ ہے اور جو شخص اللہ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے۔حضرت ابی عثمان رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے جس وقت ہم آذر بائیجان میں تھے عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں دیکھا۔ اے عتبہ بن فرقد تمہارے پاس جو مال ہے اس میں تمہاری نہ اپنی کوشش اور نہ تمہارے ماں باپ کی کوشش کا کوئی دخل ہے لہذا مسلمانوں کو ان کے گھروں پر ان چیزوں سے پیٹ بھر کر کھلاؤ جو تم اپنے گھر پر پیٹ بھر کر کھاتے ہو اور عیش وعشرت کرتے ہو ۔مشرکین کے لباس اور ریشم پہننے سے بچتے رہنا کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے۔

Leave a Comment