لیکوریا سے ماہواری میں بے قاعدگی ہو جاتی ہے اور ۔۔۔ ڈاکٹر اس کا علاج کلونجی سے کیسے بتاتے ہیں

لیکوریا سے ماہواری

ڈیلی ٹائمز! خواتین کی صحت کو صحت مند گھرانے کے لئے بہت زیادہ خاص سمجھا جاتا ہے، کیونکہ جب تک یہ مضبوط نہیں ہوں گی، آنے والی نسل اور نومولود بچوں کو بھی اس کے اثرات سے منفی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔خواتین اور بالغ لڑکیوں میں آج کل لیکوریا کی بیماری عام ہے، کہا جاتا ہے کہ یہ کوئی بیماری نہیں مگر پھر بھی لوگ اس کے بارے میں بات نہیں کرتے ،

جس کے شدید نقصانات خواتین کے تولیدی نظام اور دیگر اندرونی نظاموں کو تباہ کر دیتے ہیں۔خواتین کے جسم سے خارج ہونے والی سفید یا زرد رنگت کی رطوبت کو لیکوریا کہا جاتا ہے، اس ڈسچارج کااصل مقصد جسم سے نقصان دہ بیکٹیریا اوردیگر حیاتیات کاجسم سے نکلنا ہے۔ اگر یہ ڈسچارج سفید اور بدبو کے بغیر ہوتو نارمل بات ہے لیکن اگر یہ گاڑھا اور بدبو دار ہو تو لیکوریا ہے۔جب ہمارے گردے، آنتیں اور جلد جسم سے ٹاکسن (تولیدی نظام میں موجود مادے) کو نکالنے میں ناکام ہوتی ہیں تو نتیجے کے طور پر جسم ان ٹاکسن کو اووریز کے ذریعے سے ڈسچارچ کی شکل میں خارج کرنے کی کوشش کرتا ہے بعض اوقات یہ صرف چپچپا سفید ماہ ہوتا ہے اور سنگین ہونے کی صورت میں پیپ کا اخراج بھی اس کے ساتھ دیکھا جاتا ہے۔دراصل اس کی علامات جسم سے سفید مادے کا اخراج ہی ہے جوکہ عموماً ماہواری سے قبل خواتین کو ہوتا ہے

لیکن مستقل ہونے کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا سب سے زیادہ اہم ہے۔اس کی سب سے اہم اور بنیادہ وجہ متوازن غذا کا استعمال نہ کرنا اور اپنی جسمانی نگہداشت نہ کرنا ہے، جسم میں ہارمونل تبدیلیاں بھی بعض اوقات لیکوریا کی وجہ بنتی ہیں۔لیکوریا کی وجہ سے خواتین کے ساتھ مختلف قسم کے مسائل ہوتے ہیں جن میں کمر درد، پٹھوں کی سوجن، ماہواری میں بے قاعدگی، بہت زیادہ یا بہت کم ماہواری کا آنا، بانجھ پن، دورانِ حمل مشکلات، ڈلیوری کے وقت درد کی زیادتی، سر درد، جسمانی تھکاوٹ، پسینے کی زیادتی اور جلد پر داغ دھبے نکلنا ہیں۔گائناکالوجسٹ ڈاکٹر ثمینہ علی کہتی ہیں کہ: ” کلونجی کو روزانہ صبح نہارمنہ ایک کپ نیم گرم دودھ کے ساتھ چبا کر کھائیں اس سے لیکوریا جیسے مسائل بآسانی ختم ہوسکتے ہیں، کیونکہ کلونجی اینٹی سفید ڈسچارج سمجھی جاتی ہے جو تولیدی نظام میں مضبوطی کا باعث بنتی ہے۔

Leave a Comment