کیا پچھلے سال کی قربانی اس سال کر سکتے ہیں؟

پاکستان ٹائمز! صورت مسئولہ میں ان پر سابقہ چار سالوں کی قربانی نہ کرنے کی وجہ سے چار بکریوں کی قیمت صدقہ کرنا لازم ہے ۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ان کے بدلے میں اس سال بڑے جانورمیں حصے کی صورت میں یا بکرا ،بکری قربان کردیں ،اس طرح کرنے سے سابقہ قربانیاں ادا نہیں ہوسکتیں ، کیونکہ صاحبِ نصاب پر قربانی کے ایا م اگر گز ر جائیں اور جانور بھی قربانی کے لیے نہ خریدا ہو ،

تو پھر بکری کی قیمت صدقہ کرنا لازم آتی ہے اور اگراس سال گزشتہ سالوں کی نیت سے بڑے جانور میں حصہ ڈالیں گے ، تو موجودہ سال کی قربانی ہوجائے گی ۔ اور باقی گزشتہ سالوں کی طرف سے ادا نہیں ہوں گی ، محض نفل ہوں گی اور ایسی صورت میں سارے کا سارا گوشت ( یعنی موجودہ سال والی اور دوسری قربانیوں کا گوشت ) بھی صدقہ کرنا ہوگا بدائع الصنائع میں ہے : ’’انھا لاتقضی بالاراقۃ لأن الاراقۃ لا تعقل قربۃ وانما جعلت قربۃ بالشرع فی وقت مخصوص فاقتصر کونھا قربۃ علی الوقت المخصوص فلا تقضی بعد خروج الوقت ‘‘ترجمہ:قربانی کی قضا خون بہانے (یعنی جانور ذب ح کرنے)سے نہیں ہوسکتی ،کیونکہ خون بہانا عقلاً قربت نہیں ہے ،اسے شرع کی وجہ سے ایک وقت مخصوص میں قربت قرار دیا گیا ہے ،تو اس کا قربت ہونا وقت مخصوص تک ہی محدود ہوگا ،وقت کے ختم ہونے کے بعد اس طرحقضا نہیں ہوسکتی۔ مزید اسی میں ہے : ’’ قربانی کے دن گزر گئے اور اس نے قربانی نہیں

کی اور جانور یا اس کی قیمت کو صدقہ بھی نہیں کیا یہاں تک کہ دوسری بقرعید آ گئی اب یہ چاہتا ہے کہ سال گزشتہ کی قربانی کی قضا اس سال کرلے ، یہ نہیں ہوسکتا بلکہ اب بھی وہی حکم ہے کہ جانور یا اس کی قیمت صدقہ کرے۔ گزشتہ سالوں کی قربانی کی نیت سے حصہ ڈالا تو اس کے متعلق بہارِ شریعت میں ہی ہے : ” شرکا میں سے ایک کی نیت اس سال کی قربانی ہے اور باقیوں کی نیت سال گزشتہ کی قربانی ہے تو جس کی اس سال کی نیت ہے اوس کی قربانی صحیح ہے اور باقیوں کی نیت باطل ، کیونکہ سال گزشتہ کی قربانی اس سال نہیں ہوسکتی ۔ ان لوگوں کی یہ قربانی تطوّع یعنی نفل ہوئی اور ان لوگوں پر لازم ہے کہ گوشت کو صدقہ کر دیں بلکہ ان کا ساتھیجس کی قربانی صحیح ہوئی ہے ، وہ بھی گوشت صدقہ کر دے اونٹ کم سے کم پانچ سال، گائے، بیل، بھینس، دو سال، اور بکرا، بکری ایک سال کا ہونا شرط ہے، البتہ بھیڑیا دنبہ ایک سال سے کم کا ہو اور اتنا فربہ ہو کہ دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہے،

تو اس کی بھی قربانی درست ہے تو ہمیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے تا کہ ہم قربانی میں کسی قسم کی کو تاہی نہ کر سکیں۔ اور ہماری قربانی جو ہے وہ بھی قبول ہو جا ئے

Leave a Comment