خصی جانور کے قربانی کر نا کیسا؟

خصی جانور

پاکستان ٹائمز! خصی جانور کی قربانی کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل وبہتر ہے، آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے، عن جابر رضي اللہ عنہ قال: ذبح النبي صلی اللہ علیہ وسلم یوم الذبح کبشین أملحین موجوئین (مشکاة) وفيالہدایة: ویجوز أن یضحی بالجماء والخصي لأن لحمہا أطیب) خصی جانور نہ ہونے پر مادہ جانور کی قربانی افضل ہے،

افضلیت حاصل کرنے کے لیے قربانی کے موقع پر جانور کو خصی نہ کرنا چاہیے کیوں کہ خصی جانور کی قربانی افضل وبہتر اس لیے ہے کہ وہ فربہ اور اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں اس وقت حاصل ہوسکتی ہیں۔جب کہ جانور کو پہلے سے ہی خصی کردیا جائے، بعض لوگوں کا خصی کرنے کو جانور پر مطلقا ظلم قرار دینا درست نہیں، خصی کرنا جانور پر اس وقت ظلم ہوگا جب کہ عمل خصاء سے مقصد لہو ولعب ہو، فقہاء نے اس کو ناجائز لکھا ہے، لیکن اگر جانور کو خصی کرنے سے مقصد منفعت ہو تو یہ جائز ہے اور جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہوگیا تو اب ایک موٴمن کو اس میں کیا تردد ہونا چاہیے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے موٹے سینگ والے سفید وسیاہ دھبے دار خصی مینڈھے خریدتے، ان میں سے ایک اپنی امت کے ان افراد کی طرف سے ذبح کرتے

جو اللہ کے ایک ہونے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پہنچانے کی شہادت دیں، اور دوسری اپنی طرف سے اور اپنی آل کی طرف سے ذبح کرتے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحیٰ کے دن سینگوں والے سیاہوسفید دھبے دار خصی دو مینڈھے ذبح کیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تو دو بڑے موٹے سینگ والے سفید وسیاہ دھبے دار خصے مینڈھے خریدتے لہٰذا صورت مسئولہ میں خصی جانور کی قربانی کو ضروری قرار دینا درست نہیں ہے، البتہ غیر خصی جانور کی بنسبت خصی جانور کی قربانی زیادہ بہتر اور افضل ہے قربانی کے جانور میں خصی ہونا نقص وعیب نہیں ہے، پس خصی بکرے کی قربانی کرنا بلاکراہت درست ہے، بلکہ خود حضرت نبی اکرم صلی تعالی علیہ وسلم سے خصی کی قربانی کرنا ثابت ہے،

حدیث شریف میں اس کی صراحت ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت عبید بن فیروز رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کون سے جانوروں کی قربانی درست نہیں ہے؟تو حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے جبکہ میری انگلیاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے اور میرے پورے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پوروں سے حقیر ہیں۔ آپ نے چار انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ قربانی میں چار قسم کے جانور درست نہیں ہیں: ایک تو کانا جس کا کانا ہونا ظاہر ہو، دوسرا بیمار جس کی بیماری ظاہر ہو، تیسرا لنگڑا جس کا لنگڑانا ظاہر ہو اور چوتھا وہ بوڑھا جانور جس کی ہڈیوں میں مغز نہ رہا ہو۔ میں عرض گزار ہوا کہ جس کی عمر کم ہو یا جس کے دانت میں نقص ہو مجھے وہ بھی ناپسند ہے۔ فرمایا جو تمہیں ناپسند ہو اسے چھوڑ دو لیکن دوسروں کے لئے حرام نہ ٹھہراؤ۔

Leave a Comment