ہم سے ہماری چھت نہیں چھینی جائے ورنہ ہم کہاں جائیں گے ۔۔ نسلہ ٹاور کی رہائشی معصوم بچی

نسلہ ٹاور کی رہائشی

پاکستان ٹائمز! رواں ماہ چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد کی جانب سے کراچی میں قائم نسلہ ٹاور گرانے کا حکم جاری کیا گیا ہے جس کے بعد عمارت میں رہائشی عوام کا نسلہ ٹاور گرانے کے خلاف احتجاج جاری ہے۔نسلہ عمارت میں رہنے والے بچوں بڑوں سمیت تمام بزرگ رہائشی بے حد پریشانی کا شکار ہیں اور سپریم کورٹ سے عمارت گرانے کا فیصلہ واپس لینے کی گزارش کر رہے ہیں۔

ٹائمز آف کراچی کی جانب سے گزشتہ روز ایک ویڈیو شئیر کی گئی جس میں نسلہ ٹاور کی رہائشی خواتین اور بچوں کیجانب سے میڈیا سے گفتگو ہوئی جس میں ایک بچی نے بھی چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔ بچی کا کہنا تھا کہ ہم سے ہماری چھت نہیں چھینی جائے ،اگر ہم سے یہ ہماری چھت جھینی جائے گی تو ہم کہاں جائیں گے، ہمارے پاس یہی ایک گھر ہے اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی جگہ نہیں پے جہاں ہم رہ سکیں۔ بچی کا دکھ بھرے لہجے میں کہنا تھا کہ میری پڑھائی اس معاملے کی وجہ سے بہت متاثر ہورہی ہے اور میں اپنی تعلیم پر دھیان نہیں دے پارہی۔ بچی کا سوال تھا کہ آپ بتائیں کہ میں اس طرح انٹرویوز دوں یا پھر اپنی پڑھائی کروں۔ ایک اور خاتون کا میڈیا سے گفتگو میں کہنا تھا کہ چیز جسٹس صاحب آپ اپنے فیصلے پر براہ کرم نظر ثانی کیجیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے یہ گھر بنانا بہت مشکل رہا ہے ہم یہاں کئی سالوں سے رہائش پذیر ہیں اور اس کے علاوہ ہمارے پاس قانونی اسناد بھی پورے ہیں۔ ایک اور خاتون کا کہنا تھا کہ ہم بھی آپ بھی بہن بیٹیوں کی طرح ہیں ہم آپ سے بہت گزارش کرتے ہیں کہ اپنے فیصلہ واپس لیں اور انصاف کریں۔

Leave a Comment