کولڈ ڈرنک کے 5 ایسے کرشماتی فوائد جن کے بارے میں جاننے کے بعد آپ بھی یہ کام لازمی کریں گے

کولڈ ڈرنک

پاکستان ٹائمز ! کچھ داغ اور دھبے ایسے ہوتے ہیں جن کو صاف کرنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے، چاہے وہ کپڑوں پر ہوں یا پھر فرش پر صرف ڈٹرجنٹ کی مدد سے ان کو صاف کرنا ممکن نہیں ہوتا، ایسے میں کولڈ ڈرنک آپ کے کام کو آسان بناتی ہے۔جی ہاں! اگر آپ کولڈ ڈرنک کو ہمارے بتائے گئے طریقوں سے استعمال کریں تو آپ کے بہت سے کام آسان ہو سکتے ہیں۔

اکثر ہمارے صحن میں کھڑی بائیک یا کار سے اس کا آئل لیک ہوتا ہے جس کی وجہ سے فرش پر آئل کے ضدی داغ آ جاتے ہیں، اس ہر سیدھا کولڈ ڈرنک ڈالیں اور رگڑ دیں، بس پھر کمال دیکھیں۔اگر آپ کے کسی برتن وغیرہ پر زنگ آ گیا ہے تو اسے پھینکیں مت، اس کو کولڈ ڈرنک میں رات بھر کے لئے بھگو دیں صبح آپ کو چمکدار برتن ملے گا۔اگر آپ کا پین (پتیلی) جل گئی ہر اور کسی بھی طرح صاف نہیں ہو پا رہی تو پریشان نہ ہو اس میں کولڈ ڈرنک ڈالیں چولہا جلائیں اور دھیمی آنچ پر اس کو پکنے دیں، دیکھیں کیسا نیا اور چمکدار پین ہو جائے گا۔اگر آپ کے کپڑوں سے ضدی داغ نہیں جا رہے تو واشنگ مشین میں ڈٹرجنٹ کے ساتھ ساتھ ایک کولڈ ڈرنک بھی ڈال دیں، ہر طرح کا داغ ایک دم غائب ہو جائے گا۔کپڑوں پر گریس لگ گیا ہے یا پھر بائیک پر گریس لگ گیا ہے تو اس پر کولڈ ڈرنک ڈال کر چھوڑ دیں اور پھر دھو لیں یہ آسانی سے صاف ہو جائے گا

آپ ٹانگوں کے درمیان ’’تکیہ“ رکھ کر سوتے ہیں؟ جانیے ایسا کرنا کیوں ضروری ہے

سر کے نیچے تکیہ رکھ کر سونا تو عام سی بات ہے. لیکن کیا آپ ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھ کے سوتے ہیں؟ اگر نہیں تو جانئے ایسا کرنا کیوں ضروری ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے بستر پر 2 تکئے تو لازمی موجود ہونے چاہئیں۔ ایک تکیہ سر کے نیچے اور ایک تکیہ دونوں گھٹنوں کے درمیان رکھنے کیلئے موجود ہونا چاہئے ۔ اس سے کیا فوائد حاصل ہوں گے

۔ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھنے سے سب سے پہلا فائدہ یہ ہوتا ہےکہ خون کی گردش بہتر رہتی ہے۔ تکیہ رکھنے سے خون کی رگوں اور نالیوں پر ایک پریشر سا بن جاتا ہے جس کی وجہ سے تمام اعضا تک خون کی گردش کا عمل تیزی سے ہوتا ہے ۔ جس سے وہ بہتر طریقے سے کام کرنے لگتے ہیں، جب اعضا اچھے انداز میں کام کرتے ہیں تو اس سے لوگوں کا مدافعتی نظام بھی مضبوط ہوتا ہے۔اکثر لوگوں کی رگیں پھول جاتی ہیں ، یا دوسرے لفظوں میں انہیں ہوتا ہے۔ ایسے لوگ رات کو سونے سے قبل اگر ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھ کر سونا شروع کردیں تو رگوں کے پھول جانے کی وجہ سے ہونے والے درد میں افاقہ ہوتا ہے اور درد میں کمی آجاتی ہے ۔ماہرین کا کہناہے کہ وہ لوگ جو زیادہ خراٹے لیتے ہیں ، انہیں ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھ کر سونا چاہئے ، کیونکہ سونے کے دوران ان کے کولہے اور کمر پر پریشر نہیں پڑتا اور ان کے سونے کی پوزیشن بہتر ہوجاتی ہے

۔ جس کی وجہ سے خراٹے لینے میں بھی کمی ہوتی دیکھی گئی ہے ۔اگر ٹانگوں کے درمیان تکیہ رکھ کر سویا جائے تو اس سے گھٹنوں پر دباؤ نہیں پڑتا ، جس کی وجہ سے صبح اٹھنے کے بعد آپ کو گھٹنوں میں درد بھی محسوس نہیں ہوتا ، اکثر لوگ صبح اٹھنے کے بعد گھٹنوں میں درد کی شکایت کرتے ہیں، اس کی ایک وجہ گھٹنوں پر دباؤ پڑنا ہوتا ہے، تاہم اگر گھٹنوں کے درمیان تکیہ رکھ کر سوئیں گے تو اس مسئلے سے چھٹکارہ مل جائے گا

Leave a Comment