وفاقی وزیر نے درجن سرکاری گاڑیاں رشتے داروں میں بانٹ دیں،جانیں اس خبر میں

وفاقی وزیر

پاکستان ٹائمز ! صحافی ثنا اللہ خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک وفاقی وزیر نے درجن بھر سے زائد سرکاری گاڑیاں اپنے رشتے داروں میں بانٹی ہوئی ہیں۔تفصیلات کے مطابق اپنے ایک ٹویٹ میں ثنا اللہ خان نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر نے وزارت اور اس کے اداروں کی ایک درجن سے زائد گاڑیاں اپنے رشتے داروں میں بانٹی ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کام کرنے والے وزیر کی اب وزارت تبدیل ہوچکی ہے۔

پہلی وزارت میں نیا وزیر آیا تو اس نے گاڑیاں واپس مانگیں لیکن سابق وزیر کے رشتے داروں نے گاڑیاں واپس نہیں کیں اسکے اداروں کی ایک درجن سے زائد گاڑیاں اپنے رشتےداروں میں بانٹیں ہوئیں ہیں وزارت تبدیل ہوگئی آنے والے وزیر نے گاڑیاں واپس مانگیں نہ ملنے پرتمام گاڑیوں کے فیول کارڈ بلاک کرا دئیے

اس گرمیاں اگر آپ کے گھر چھپکلی آتی ہےتوچھپکلی دیکھتے ہی آپﷺکی ہدایت پر بس یہ ایک کام کر لوزندگی بدل جائے گی

چھپکلی عام طورپر ایک رینگنے والا جانور ہے جو ہم اپنے گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر دیکھ سکتے ہیں ۔ اسکی بعض اقسام زہریلی ضرور ہوتی ہیں ۔ مگر عام طور پر گھروں میں پائی جانے والی چھپکلیاں زہریلی نہیں ہوتیں۔ البتہ ان کو دیکھ کر کراہت کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ عموماً گھروں میں پائے جانے والی چھپکلیاں چار سے چھ انچ تک لمبی ہوسکتی ہیں۔ سالم نگل سکتی ہیں۔ اگرچہ اب تک کوئی ایسا واقعہ تو سامنے نہیں آیا ہے۔

کہ جب کسی گھریلو چھپکلی نے کسی شخص کو کاٹا ہو اور اس کی م و ت واقع ہوگئی ہو۔ لیکن ایسے کئی واقعات وقتاًفوقتاً پیش آتے رہتے ہیں۔ لوگوں کو جان کے لالے پڑ گئے ہوں۔ تمام مسلمان گھرانوں میں یہ مانا جاتا ہے کہ چھپکلی کو مارنا انتہائی ثواب کاکام ہے۔ اور اس کو نہ بھی مارا جائے تو اس کو گھر سے ضرور نکال دینا چاہیے کیونکہ اس کی موجودگی نحوست کا سبب قر ار دی جاتی ہے۔ مگر اس سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔ کہ اسکو مارنے کا حکم مسلمانوں کو شرعی طور پر دیا گیا ہے۔ آپ کو اسلام اور سائنس دونوں کے تناظر میں بتائیں گے ۔ کہ چھپکلی کو مارنا انتہائی اہم کیوں ہے؟ تاریخ کی کتابوں کا مطالعہ کیا جائےتو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ جب نمرود نے حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ کو ایک ماننے پر آگ میں ڈالنے کا حکم دیا۔ تو یہ کرہ ارض کا بہت بڑا اور برا واقعہ تھا۔ جس کا ذکر انسانوں کےعلاوہ چرند، پرند اور جنوں و انس سب کے درمیان ہوا ہے۔

اس موقع کےبارے میں ایک روایت آتی ہے۔کہ جب چیونٹی اور چھپکلی کے درمیان اس واقع کا ذکر ہوا تو چیونٹی نے حضرت ابراہیم ؑ کی حمایت اور چھپکلی نے نمرودکو حق بجانب قرار دیا۔ ایک اور روایت کے مطابق جب حضرت ابراہیمؑ کو آگ میں ڈالا گیا۔ تو اس موقع پر جب چھوٹے پرندے اپنی استطاعت کےمطابق اپنی چونچ میں پانی بھر کر اس آگ میں ڈال رہے تھے کہ تاکہ وہ آگ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے ٹھنڈی ہوجائے تو اس موقع پر یہی چھپکلی تھی جو اس آگ کو اپنی سانسوں سے مزید بھڑکانے کی کوشش کررہی تھی۔ جب اس کے حوالےسے ہمارےپیارے آقا ﷺ سے دریافت کیا گیا تو صیحح بخاری میں آتا ہے کہ اللہ کے رسول اللہﷺ نے چھپکلی ق تل کرنے کا حکم دیا۔ اور فرمایا: یہ حضرت ابراہیم ؑ کے لیے چلائی گئی آگ میں پھونکیں مارا کرتی تھی۔ صیحح بخاری میں ایک روایت آتی ہے۔ کہ آپ ﷺ نے چھپکلی کو ق تل کرنے کا حکم دیا۔ اور اسے فاسک قراردیا۔ ایک اور روایت کے مطابق ایک بارے میں ایک صحابی فقیہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی ایک آزاد کردہ غلام عورت جب بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر گئی ۔

تو انہوں نے وہاں پر ایک نیزہ پڑا ہوا دیکھا۔ انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ اس کا کیا مقصد ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ چھپکلی کو مارنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔ کیونکہ رسول اکرم ﷺ نے بتایا تھا جب سارے جانور حضرت ابراہیم ؑ کو بچانے کی کوشش کررہے تھے۔ تب یہ چھپکلی واحد جانور تھی جس نے اس آگ کو بھڑکانے کی کوشش کی تھی۔اس کے علاوہ اس کی کچھ نسلیں ایسی بھی ہیں۔ جو کہ انتہائی زہریلی شمار کی جاتی ہیں۔۔

Leave a Comment