دبئی میں پاکستانی نوجوان نے سب کے دل جیت لیے،خبر پڑھ کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے

دبئی میں پاکستانی نوجوان

پاکستان ٹائمز! متحدہ عرب امارات میں پاکستانی نوجوان نے خاتون کو ڈوبنے سے بچا لیا۔خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کی 58 سالہ خاتون عجمان مرینا کے قریب پانی میں ڈوب رہی تھی پاکستانی نوجوان نے خاتون کو ڈوبنے سے بچالیا۔محمد ناگمان نے بتایا کہ وہ جب مرینا کے قریب چہل قدمی کررہے تھے تو خاتون مدد کے لیے پکار رہی تھیں

وہ ساحل کی طرح دوڑے اور بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسے پانی سے نکالنے کے لیے سمندر میں چھلانگلگادی۔انہوں نے بتایا کہ خاتون کو بچانے کے بعد انتظامیہ نے سول ڈڈیفنس کو بلایا اور حکام کے انتظار میں خاتون کو سانس لینے میں مدد کے لیے سی پی آر کا آغاز کیا۔میڈیکس کے پہنچنے کے بعد خاتون کو طبی امداد دی گئی اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔جامع سٹی پولیس اسٹیشن کے ڈائریکٹر غیث خلیفہ سالم الکعبی نے کہا کہ عجمان پولیس نے ہمیشہ کمیونٹی کے ممبران کی تعریف کی ہے اور ایسے افراد کے اقدامات کو سراہا جاتا ہے جو لوگوں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی زندگی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ناگمان کی بہادری کی تعریف کرتے ہوئے پولیس نے انہیں تعریفی سرٹیفکیٹ اور نقد انعام دیا، محمد ناگمان نے بھی پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ انہیں نے جو کیا وہ ان کا اخلاقی فرض تھا۔

سابق نگران وزیر اعظم جسٹس (ر)میر ہزار خان کھوسو انتقال کرگئے

پاکستان ٹائمز! سابق نگران وزیر اعظم جسٹس (ر)میر ہزار خان کھوسو علالت کے باعث کوئٹہ کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے ۔میر ہزار خان کھوسو 24 مارچ کو پاکستان کے 18 ویں وزیر اعظم منتخب ہوئے وہ ایک جج تھے آپ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رہے ہیں اور آپ پاکستان کے عبوری وزیر اعظم بھی رہے۔میرہزارخان کھوسہ بلوچستان کے ضلعجعفر آباد کے کے قصبے اعظم خان میں 30 ستمبر 1929 کو پیدا ہوئے۔1954 میں سندھ یونیورسٹی سےگریجویشن کی اس کے دو سال بعد انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی۔کھوسو جو اپنی سادگی کے لیے نام سے جانا جاتا ہے، نے 1957 میں اس وقت کے مغربی پاکستان کراچی بنچ کے ایک وکیل کے طور پر اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا اور اس کے بعد 1980 ء میں سپریم کورٹ کے وکیل بن گئے۔ پھر انھیں 1977 میں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایک جج بنا دیا گیا؛

اور انہوں نے اگلے دو سال تک اس عہد7 پر کام کیا۔ ان کی مارچ 1985 میں ایک اضافی جج کے طور پر تقرری کی گئی انہیں 1987 ء میں صوبائی ہائی کورٹ کا مستقل جج بنا دیا گیا۔پھر انھیں 1989 میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ بنا دیا گیا۔ انھیں دو مرتبہ مختصر سی مدت کے لیے نگران گورنر بلوچستان بھی بنایا گیا پہلی مرتبہ انھیں 25 جون سے 12 جولائی 1990 تک جبکہ دوسری بار 13 مارچ 1991 سے 13 جولائی 1991تک نگران گورنر بنایا گیا۔ ہائیکورٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد وہ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے 1991 میں انھیں وفاقی شرعی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کر دیا گیا وہ 1994 تک اس عہدے پر براجمان رہے۔ انتہائی ایماندار ہونے کی وجہ سے آپ کو زکوۃ کونسل کے چیرمین مقرر ہوئے۔ زکوۃ کونسل کے چیرمین ہونے کی وجہ سے انھوں نے لمبے عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔

الیکشن کمیشن نے میر ہزار خان کھوسو کو 24 مارچ کو پاکستان کے 18 واں وزیر اعظم منتخب کیا الیکشن کمیشن نے حکومت اور حزب اختلاف کے چار ناموں میں سے آپ کا انتخاب کیا۔آپ کے تین بیٹے ہیں شفاقت کھوسو، برکت کھوسو اور امجد کھوسو۔ آپ کے بیٹے امجد خان کھوسو نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

Leave a Comment