سندھ کے ایک قبیلے کی داستان جس نے 700 سال تک سوگ منایا

سندھ کے ایک قبیلے

پاکستان ٹائمز! سندھ کے ایک قبیلے کی داستان جس نے 700 سال تک سوگ منایا کسی اپنے کے مر جانے کا غم بےشک بہت ہی تکلیف کا باعث ہوتا ہےلیکن وقت ایک مرہم ہے اور وقت گزرنے کیساتھ ساتھ انسان روزمرہ کی زندگیوں میں گم ہوجاتا ہےلیکن دنیا میں ایک خاندان ایسا بھی ہے جو کہ اب تک 700 سال تک سوگ کی حالت میں ہے۔سندھ کے صحرائے تھر میں ربائی قبیلے کی خواتین پچھلے 700 سال سے سوگ کی حالت میں چلی آرہی ہیں

،یہ سوگ انہوں نے اپنے دوست دودو سومرو کی موت پرشروع کیا تھاجو کہ سال 1300 عیسوی میں علاؤالدین خلجی کیساتھ مارا گیا تھاپھر اسکے بعد سے ان خواتین نے سیاہ لباس پہن لیا اور یہ روایت آج بھی چلی آرہی ہے۔ رباڑی قبائل اس وقت بھارتی ریاست گجرات اور راجھتسان کے علاوہ صوبہ سندھ کے نگر پارکر اور بدین کے اضلاع میں واقع ہے،تاریخی حوالوں کے مطابق وہ راجپوت سے تعلق رکھتے ہیں اور راجھستان کے رہائشی ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایک بادشاہ نے جنگ کے دوران ایک رباڑی لڑکی دیکھ لی اور اس پبیلے پر دباؤ ڈالا کہ مجھے اس لڑکی کا رشتہ دیا جائےلیکن رباڑی برادری نے انکار کر دیا اور رات کی تاریکی میں نقل مکانی کر گئے۔ رباڑی خاندان راجھستان سے نکل کر نگر پارکر کیطرف آگئےجہاں پر سمرہ خاندان کے دودو سومرو کی

حکومت ہوا کرتی تھی ،تب دودو سومرو نے اس قبیلے کو تحفظ دیااور اسکے بعد وہ یہاں رہنا شروع ہو گئے۔ اسکے ساتھ ساتھ علاؤالدین خلجی کے نے ان سے اپنے پاگل بھائی کا رشتہ مانگ لیاجو دودو سومرو نے انکار کر دیا تو اس وجہ سے انہوں نے دودو سومرو پر چرھائی کر دی۔ اس جنگ میں رباڑی قبیلے نے دودو کا اچھے سے ساتھ دیالیکن دودو سومرو کو شکست کھانا پری اور وہ جنگ کے دوران ہی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ دودو سومرو کیونکہ رباڑی خاندان کا محسن تھا اسی لیے رباڑی قبیلے کیلئے یہ کسی قیامت سے کم نہیں تھااور پھر اسکے سوگ میں رباڑی خاندان نے سیاہ لباس اوڑھ لیا۔ بھارتی ریاستوں کے علاوہ بدین اور تھر پارکر میں بھی اس برادری کے لوگ موجود ہیں،لیکن وہ سیاہ لباس نہیں پہنچے ۔

Happy Face of Rabari Shepherd | India Photographic Journey, … | Flickr سال 1970 میں راجپوت رباڑی قبیلے کو سوگ جب ختم کرنے کا کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا اور جواب دیا کہ یہ ہماری روایت ہے۔ اس قبیلے کے لوگ مویشی کا کام کیا کرتے تھے ،وہ دودھ،دہی اور مکھن کے علاوہ جانوروں کی کھالوں اور بھیروں کی اون فروخت کیجاتی تھی۔ جنگلات کی تعداد میں کمی اور تھر میں مسلسل قحط سالی نے ان سے انکے جانور چھین لیے اب انہوں نے انکے علاوہ دوسرے کام کاج بھی کرنا شروع کر دئے ہیں۔ رباڑی خواتین سیاہ گھاگھڑا اور رنگین چولی پہنا کرتے ہیں جب کہ اس پر سیاہ چادر اوڑھ لیجاتی ہےان لوگوں کے سوگ کا یہ عالم ہے کہ انکے خاندان میں دلہن کو بھی سیاہ لباس پہنایا جاتاہے۔

The World’s 10 Most Threatened Tribes – WorldAtlas.com اس خاندان کے مرد لنگوٹا پہنتے ہیں اور اس پر چھوٹی کمیز پہنتے ہیں ۔ نوجوانوں نے وقت کیساتھ ساتھ اپنا لباس تبدیل کر لیا ہے جبکہ خواتین کا وہی قدیم لباس ہے۔ رباڑی قبیلہ سخت پردے کا کائل ہے کہ اس قدر کہ شادی میں بھی دولہے کے ہمراہ جایا کرتے ہیں اور رخصتی کے وقت ماموں اور باپ جاتا ہےجو لڑکی کو چھوڑ کر واپس آجایا کرتے ہیں۔ یہ لوگ بچپن میں ہی بچوں کے رشتے کر لیتے ہیں اور جوان ہوتے ہیں انکی رخصتی کر دیتے ہیں۔

Leave a Comment