خواجہ سراء سے نکاح کرناکب جائز ہے؟

خواجہ سراء

پاکستان ٹائمز! ایک بھائی پوچھتے ہیں کہ خواجہ سرا کے ساتھ نکاح کرنا جائزہے اس کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے جس طریقہ سے آدم ؑ کی اولاد اسی طریقہ سے خواجہ سرا بھی حضرت آدم ؑ کی اولاد میں سے ہے جس طرح مرد عورت کو وراثت میں حصہ ملتا ہے بلکل اسی طریقہ سے خواجہ سرا کو بھی وراثت میں حصہ دیا جاتا ہے ۔خواجہ سرا کی تین قسمیں ہوتی ہیں ایک خواجہ سرا وہ ہوتے ہیں جو مردوں کے قریب قریب ہوتے ہیں ۔

ایک وہ ہوتے ہیں جو عورتوں کی طرح ہوتے ہیں ان کے عورتوں کی طرح اعضاء ہوتےہیں جو مردوں کی طرح ہوتے ہیں وہ مردوں کے مشابح ہوتے ہیں تیسرا خواجہ سرا ہے وہ نامرد نہ عورت ہوتے ہیں کچھ خواجہ سرا بناوٹی ہوتے ہیں جیسے کہ پاکستانے اندر ہیں مرد ہوتے ہیں لیکن اپنے اعضاء بدل لیتے ہیں میک اپ کرلیتے ہیں ان لوگوں کے بارے میں رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے جو لو گ عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں ان پر اللہ کے نبی کی لعنت ہے ۔بات یہ کررہے ہیں کہ خواجہ سرا سے نکاح ہوسکتا ہے یانہیں جب تک ان کی جنس معلوم نہ ہوجائے پتا نہ چل جائے کہ مرد ہے یا عورت ہے اس وقت تک نکاح جائز نہیں جب پتہ چل گیا کہ یہ مرد ہے اس کے عورت کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے اگر عورت ہے تو کسی مرد کیساتھ نکاح کرنا جائز ہے جب اس کی ہئیت معلوم ہوجائیگی اس کی جنس معلوم ہونے پر اس کا نکاح کیا جاسکتا ہے اسی طرح وراثت میں حصہ ملے گا۔

خواجہ سراؤں کی بھی نمازِ جنازہ اسی طرح ہی پڑھائی جانی جاہیے، جس طرح عام مسلمان مرد و خواتین کی پڑھائی جاتی ہے۔ فتوے کے مطابق خواجہ سراؤں کا جائیداد میں بھی حصہ ہوتا ہے اور جو والدین انہیں جائیداد سے محروم کر کے انہیں گھر سے نکال دیتے ہیں، ان کے خلاف حکومت کو قانونی کارروائی کرنی چاہیے۔ علماء نے کہا ہے کہ خواجہ سراؤں کی تضحیک کرنا آوازیں کسنا مذاق اڑانا یا اُنہیں حقیر سمھجنا شرعی طور پر جائز نہیں ہے۔

Leave a Comment