چینی سائنسدانوں نے اب مردوں کو حاملہ کرنے کی تیاری پکڑ لی

مردوں کو حاملہ

پاکستان ٹائمز! اب تک خواتین ہی بچوں کو جنم دیتی آئی تھیں تاہم مردہوشیار باش! چینی سائنسدانوں نے اب مردوں کو حاملہ کرنے کی تیاری پکڑ لی ہے۔ میل آن لائن کے مطابق چینی سائنسدانوں نے اس حیران کن تحقیق میں چوہوں پر تجربات کیے ہیں جن کے نتائج بہت حوصلہ افزاء سامنے آئے ہیں۔ ان تجربات میں سائنسدانوں نے مادہ چوہوں کے جسموں سے بچے دانی نکال کر نر چوہوں کے جسم میں ٹرانسپلانٹ کر دی

اور پھر انہیں مصنوعی طریقہ افزائش آئی وی ایف کے ذریعے حاملہ کردیا۔رپورٹ کے مطابق ان نر چوہوں میں بغیر کسی سنگین پیچیدگی کے صحت مند بچے پیدا ہوئے۔ ان نر چوہوں میں زچگی کا عمل بھی آپریشن کے ذریعے کیا گیا۔ ان تجربات میں سائنسدانوں نے نر چوہوں کے ذریعے 10بچے پیدا کیے۔ سائنسدانوں کی یہ ٹیم اب یہی تجربہ انسانوں پر آزمانے کی تیاری کر رہی ہے۔ واضح رہے کہ یہ تحقیق شنگھائی کی نیول میڈیکل یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی طرف سے کی گئی ہے۔

دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت

پاکستان ٹائمز ! نوبی افریقہ میں دنیا کا تیسرا بڑا ہیرا دریافت ہوا ہے،اس ہیرے کی لمبائی 73 ملی میٹر، چوڑائی 52 ملی میٹر ہے جبکہ اس کی موٹائی 27 ملی میٹر ہے،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ پتھر ڈیبسوانا ڈائمنڈ کمپنی کے قائم مقام منیجنگ ڈائریکٹر لینیٹ آرم اسٹرونگ کی جانب سے صدر موک ویتسی مسیسی کو پیش کیا گیا۔یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا ہیرا ہے،

اس سے قبل 1905میں جنوبی افریقہ میں 3 ہزار 106 قیراط کا کلینن پتھر دریافت کیا گیا تھا اور بعدازاں 2015 میں بوٹسوانا میں ایک ہزار 19 قیراط وزنی لیسیڈی لا رونا دریافت ہوا تھا۔لینیٹ آرم اسٹرونگ نے کہا کہ یہ ڈیبسوانا کی 50 سالہ تاریخ میں دریافت ہونے والا سب سے بڑا ہیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ابتدائی تجزیے کے مطابق یہ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا جواہر کے معیار کا پتھر ہوسکتا ہے۔لینیٹ آرم اسٹرونگ نے کہا کہ ہمیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس ہیرے کو ڈی بیئرز چینل کے ذریعے فروخت کیا جائے یا سرکاری اوکاوانگو ڈائمنڈ کمپنی کے ذریعے بیچا جائے۔وزیر معدنیات لیفوکو موگی نے کہا کہ ابھی اس دریافت ہونے والے پتھر کو نام دیا جانا باقی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پتھر کی لمبائی 73 ملی میٹر، چوڑائی 52 ملی میٹر ہے جبکہ اس کی موٹائی 27 ملی میٹر ہے۔سال 2020 میں کورونا وائرس کی وبا سے متاثر ہیرے کی فروخت کے بعد اس نایاب پتھر کی فروخت کا اس سے بہتر کوئی وقت نہیں تھا۔

بوٹسوانا کی حکومت ڈیبسوانا کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدن کا 80 فیصد حصہ رائلٹیز اور ٹیکسز کے ذریعے وصول کرتا ہے۔سال 2020 میں ڈیبسوانا کی پیداوار 29 فیصد کم ہوکر ایک کروڑ 66 قیراط تک پہنچ گئی تھی جبکہ فروخت 30 فیصد کم ہوکر 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔سفری پابندیوں میں نرمی اور جیولری کی مارکیٹس دوبارہ کھلنے کے ہیرے کی عالمی مارکیٹ بحال ہورہی ہے اور اس سال 2021 میں ڈیبسوانا اپنی پیداوار کو 2 کروڑ 30 لاکھ قیراط کی سطح تک 38 فیصد بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Leave a Comment