حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایااگر تمہارے جسم میں یہ ایک نشانی ظاہر ہونے لگے

حضرت علیؓ

ڈیلی ٹائمز! ویسے تو کسی کو کسی سے محبت ہونے کی مختلف نشانیاں ہوتی ہیں اور دیکھنے والا خود ہی محسوس کرلیتا ہے کہ فلاں کو فلاں سے محبت ہے ،مثلاً والدین کی محبت اولاد کے لئے،میاں بیوی کی آپس کی محبت ،بہن بھائیوں کی محبت ،لیکن یہ محبت تو قدرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان رشتوں میں رکھی ہے ،ہماری اس تحریر میں محبت کی ایک ایسی نشانی کے بارے میں بتایا جائے گا

کہ اگر آپ کی زندگی میں وہ نشانی پائے جائے تو سمجھ لیں کہ آپ دنیا کے خوش قسمت ترین انسان ہیں اور آپ کے ساتھ محبت کرنے والے بے شمار ہیں،یہ نشانی کیا ہے؟ اور اس بارے میں حضرت علی ؓ کا کیا فرمان ہے اس حوالے مکمل تفصیل جاننے کے لئے اس تحریر کو آخر تک پڑھیئے گا۔پیارے دوستو! محبت کی اس نشانی کو بھی تحریر کریں گے لیکن اس سے پہلے آپ کو ایک ایسی محبت کے بارے میں بتاتے ہیں کہ جو محبت ایسی ہے جو کہ کبھی نہ ختم ہونے والی محبت ہے کہ جو محبت دائمی ہے اور وہ محبت ہے ہمارے پیارے آقاﷺکی محبت جو کہ ہر اُمتی کے لئے ہے ،ہمارے آقاﷺ نے اپنے قیامت تک آنے والے اُمتی سے ایسی محبت کی ہے کہ جس کی مثال ملنا مشکل ہے ۔آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنی دعاؤں میں اپنے امتیوں کو یاد رکھا اور اللہ تعالیٰ سےجب بھی مانگا ہے اپنے امتیوں کے لئے لازمی مانگا ہے

اور جب قیامت کا دن ہو گا ہر کوئی نفسی نفسی کر رہا ہو گا تو اس وقت ہمارے پیارے آقاﷺ فرمارہے ہوں گے اُمتِی امَّتِی اسی لئے فرمایا کہ پیارے آقاﷺ کی اپنے امتیوں کے لئے جو محبت ہے وہ دائمی ہے ،باقی سب محبتیں فانی ہیں اور ختم ہونے والی ہیں،متعدد روایات میں دوسروں کے لئے دعا کرنے کی تاکید ملتی ہے اور یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دوسروں کے لئے کی جانے والی دعائیں قبول ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اپنا حال دیکھیں تو بہت کم لوگ ایسے ہیں کہ جو دوسروں کے لئے دعائیں مانگتے ہیں ہر کسی کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے لئے ہی مانگے حالانکہ اللہ تعالیٰ دوسروں کے لئے مانگے جانے والی دعاؤں کو جلد قبول فرماتا ہے۔حدیث پاک میں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا پیٹ پیچھے مسلمان کی دعاقبول ہوتی ہے اس کے پاس ایک فرشتہ دعا کرنے والے کے سر کے قریب مقرر ہوتا ہے جب کوئی کسی مسلمان بھائی کے لئے دعا کرتا ہے

تو فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور یوں کہتا ہے مسلمان کے حق میں تو نے جو دعا کی ہے۔وہ تیری لئے بھی اس جیسی ہی نعمت و دولت کی خوشخبری ہے ایک حدیث پاک میں اس طرح وارد ہوا ہے ،حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں پہلے تجھ سے شروع کروں گا یعنی تم جو دعائیں دوسروں کے مانگ رہے ہو وہ سب دعائیں پہلے تمہارے حق میں قبول کروں گا پہلے تمہیں دوں گا ،اس حدیث پاک سے اندازہ لگائیں کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی مخلوق سے کتنی محبت ہے کہ ایسی گناہگار سہی مگر ان کے لئے دعا کرنے والوں کے لئے دعا قبول کرنے اور حقوق العباد اور اخوت اسلامی کا درس بھی دیا جارہا ہے یعنی کیسی ہی گناہگار سہی مگر ان کے لئے دعا کرنے والوں کی دعا قبول کرنے اور اسے پہلے دینے کا برملا اعلان فرمایا جارہا ہے اس کے علاوہ اس حدیث پا ک میں حقوق العباد اور اخوت اسلامی کا درس بھی دیا جارہا ہے

یعنی دعا مانگتے وقت صرف اپنے لئے دعا نہ مانگی جائے بلکہ اپنے ماں باپ ،بہن بھائیوں اور دوستوں کے لئے بھی دعا مانگی جائے بلکہ پوری انسانیت کے لئے دعا مانگنی چاہئے،بندہ جس سخاوت کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اسی قدر خوش ہوتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا کہ پیارے آقا ﷺ کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے ہمیشہ اپنی امت کے لئے اللہ تعالیٰ سے مانگا ہے اور ہر وقت آپﷺ کو اپنی امت ہی کی فکر رہتی تھی،حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں ایک حدیث میں آیا ہےکہ آدمی کی دعا اس کے بھائی کے حق میں اس قدر زیادہ قبول ہوتی ہے۔

Leave a Comment