جہاز میں پائلٹ بائیں جانب والی سیٹ پر ہی کیوں بیٹھتا ہے

جہاز میں پائلٹ

ڈیلی ٹائمز! مسافر طیارے اور اس میں موجود مختلف تکنیکی چیزوں کے بارے میں بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا کہ آخر اس کا مقصد کیا ہے۔اسی طرح بہت سے لوگ شاید یہ بھی نہیں جانتے ہوں گے کہ مسافر طیارے میں پائلٹ بائیں جانب والی سیٹ پر ہی کیوں براجمان ہوتا ہے۔اس کے پیچھے ایک ہم وجہ ہے جو ہم آپ کو بتانے جا رہے ہیں۔دراصل آج کے جدید طیاروں میں پائلٹ اور پہلا آفیسر یعنی (فرسٹ آفیسر) ہی موجود ہوتے ہیں۔

پائلٹ کاک پٹ کے بائیں طرف بیٹھتا ہے۔ اور پہلا افسردائیں طرف بیٹھتا ہے۔بیشتر جدید جیٹ طیاروں میں کوئی سلپ اسٹریم اثر نہیں ہے۔ لیکن بائیں طرف بیٹھنے سے دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے مطابق ، ممکن ہوسکتا ہے کہ تصادم ہونے کی صورت میں ، دونوں پائلٹ اپنے سر کو دائیں طرف لے جائیں۔ تو ایسی صورتحال میں بائیں جانب بیٹھنے والے پائلٹ کو دوسرے طیارے آسانی سے نظر آجاتا ہے۔ اس سے پائلٹ کو کسی قسم کی تباہی سے بچنے کے لئے ہوائی جہاز کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ پائلٹ جہاز کے دائیں جانب یعنی کاکپٹ کی طرف بیٹھتا ہے۔

جب میں نے مجبور ہو کر اپنے جیٹھ سے ہمبستری کی جیٹھ اور بھابھی کی زندگی کا سبق آموز واقعہ

اس کہانی کا مقصد صرف یہ ہے کہ ہم اس سے سبق حاصل کریں اور عورت پر جو ظلم ہمارے معاشرے میں رشتوں کی چکی میں پیس کر کیا جا رہا ہئ وہ نہ کیا جاسکے اس کے حقوق میں اس کی پاماکی نہ ہو اسے ایسی ہی عزت دی جانی چاہیےجیسی عزت ہم اپنی بہنوں بیٹیوں کے لیے ان کے سسرال میں طلب کرتے ہیں اسے ان کاموں پر مجبور نہ کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں ہوتے ورنہ وہ بھی ایسا قدم اٹھا سکتی ہے

جیسا اس عورت نے اٹھایا یہ کہانی اسی کی زبانی سینے۔اس روز میرے شوہر نے مجھے بہت بے دردی سے مارا پیٹا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میری ساس نے میرے شوہر کو میرے خلاف اکسایا تھا کہ یہ عورت پیدائشی بانجھ ہے اور اس عورت سے اولاد نہیں ہونی اس کو چھوڑ اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لے میری ساس کی انہی باتوں کی وجہ سے میرا شوہر بات نے بات مجھے ڈانٹتا رہتااوراس روز تو اس نے حد ہی کر دی مجھے مارنے پیٹنے کے بعد بھی سکون نہ ہوا تو مجھے کہنے لگا کہ اگر تم ماں نہ بن سکی تو میں تمیں چھوڑ دوں گااور کسی دوسری عورت سے شادی کر لوں گا میرا جیٹھ شوہر کا بڑا بھائی پاس ہی کھڑا تھا اور سارا منظر دیکھ رہا تھا اس سے رہا نہ گیا تو اس نے میرے شوہر کو برا بھال کہنا شروع کردیااس پر میری ساس نے اسے بھی برا بھلا کہنا شروع کر دیا میرا جیٹھ عمر میں مجھ سے کافی بڑا تھا۔لیکن اس کی شخصیت میرے شوہر سے بلکل مختلف تھی

دراصل پہلے پہلی تو یرے شوہر کا رویہ بھی میرے ساتھ بہت اچھا تھا لیکن شادی کے چار سال گزرنے کے بعد بھی جب کوئی بچہ ہیدا نہ ہوا تو اس کا رویہ میرے ساتھ بدلنے لگا تھا میں نے اپنی ساس اور شوہر کے طعنوں سے تنگ آکر اپنا علاج بھی کروایا لیکن خرابی میرے شوہر میں تھی اور وہ اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا اس روز میں نے تہیہ کرلیا کر ماں بنبے کے لیے میں کچھ بھی کروں گی اگلے دن ہی میں گھر پر کسی کو نہ پاکر کراپنے جیٹھ کے کمرے میں چلی گئی جو کہ اپنی بیوی کی وفات کے بعد اپنی چند ماہ کی بیٹی کے ساتھ اکیلا رہتا تھاکاکی کیا بات ہےمیرا جیٹھ میری طرف دیکھ کر بولا میں نے اس کے سامنے جا کر اپنی چادر اتاردی اور اس کے پیروں میں رکھتے ہوئے بولی جیٹھ جی مجھے بچہ چاہیے کچھ بھی کرکے مجھے بچہ دلوادو ورنہ میرا گھر برباد ہوجائے گا اب میں اور مار نہیں کھا سکتی۔

اور نہ یہ دکھ برداشت کرسکتی ہوں کہ وہ مجھے چھوڑ کر کسی اور کا ہوجائے یہ کہہ کر میں آگے بڑھی ار جیٹھ کے قریب جاکر کھڑی ہوگئی میرے جیٹھ نے میری ساری بات سمجھ لی تھی وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولا نہیں کاکی یہ ساب غلط ہے میں ایسا نہیں کرسکتا میں نے کہا توٹھیک ہے پھر جب تمہارا بھائی مجھے پیٹتے پیٹتے ماردے گا یا مجھے چھوڑ دے گاتو تم میری بے بسی دیکھ کر کڑتے رہنا اور مجھے مرتا ہوئے دیکھتے رہنا یہ کہہ کر میں واپس مڑنے لگی تھی کہ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھااور مجھے اپنی طرف کھینچ لیا اور میں چپ چاپ اس کے سامنے بچھ گئی تھی اور اس وقت اپنا گھر بچانے کے لیے میں اور کرتی تھی تو کیا خیر امید برآئی بھی اور کچھ ہی دنوں بعد میں نے اپنے شوہر کو خوش خبری دی کہ اب میں ماں بنے والی ہوں۔اور اس خبر پر وہ ایسے خوش ہوا جیسے کس قاتل کی سزائے موت معاف ہونے پر وہ خوش ہوتا ہے

اور میں اپنے شوہر کی خوشی دیکھ کر خوش تھی اب اس نے پھر سے میرے نخرے اٹھانے شروع کردیے تھےمجھے کسی کام کو ہاتھ نہ لگانے دیتا کہ کہیں کوئی مسئلہ نہ بن جائے اور ہر وقت میری خاطر مدارت میں مصروف رہتا میری ساس جو میری سب سے بڑی دشمن بن بیٹھی تھی وہ بھی اب مجھ سے خوش تھی پھر ہمارے گھر ایک چاند سا بیٹا پیدا ہوا اور میرے شوہر ے پورے گائوں میں مٹھایاں بانٹیں لیکن اسے کیا معلوم تھاکہ وہ اس کا بیٹا نہیں تھا میں چپ رہی اور میں نے ساری زندگی چپ ہی رہنا تھااگر وہ واقع پیش نہ آتاجن مجھے اپنے شوہر کو سب کچھ سچ سچ بتانا پڑا دراصل ہوایوں کہ میرا بیٹا اپنے باپ کا بہت ہی لاڈا تھا اس کی سےزبان سے بات نکلنے سے پہلے ہی اس کا باپ اس کی بات پوری کردیتا تھا اور کیوں نہ کرتا وہ ہماری اکلوتی اولاد تھا اس وقت میرا بیٹا لڑکپن میں تھااس نے دل ہی دل میں میرے جیٹھ کی بیٹی جو کہ عمرمیں اس سے بڑی تھی

کو پسند کرلیا تھا ناجانے کب ان دونوں نے آپس میں محبت کی پینگیں بڑھا لیں جاری ہے۔ میرا جیٹھ تو فوت ہوچکا تھا۔لیکن اس کی بیٹی کی ذمہ داری میری ساس نے اپنی ذمہ لے لی تھی جب مجھے اس بات کا علم ہوا تو اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی میں نے اپنے بیٹے کو سمجھانے کی بہت کوشش کیلیکن اس نے میری بات ماننے سے صاف انکار کر دیا تھا اور وہ کہتا بھی ٹھیک ہی تھا کہ اگر اس کی شادی اس کے تایا کی بیٹی سے ہوجائے تو حرج ہی کیا ہےلیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ وہ بھی اپنے تیا کا ہی بیٹا تھا اور اسی حساب سے وہ دونوں بہیں بھائی تھے یں نے اپنے شوہر سے بات کرنے کی کوشش کی کہ بیٹے کے لیے کوئی اور رشتی ڈھونڈلیتے ہیں اس نے بھی یہ کہہ کر صاف انکار کردیا تھا کہ کبھی سوچنا بھی مت لڑکی گھر میں موجود ہے اور ان دونوں کی شادی سے گھر میں ہی رہ جائے گی کیونکہ اس کے ماں باپ تو اس دنیا میں ہیں نہیں اس لیے سب سے مناسب یہی ہے کہ

ہم اپنے بیٹے کی شادی اس کے ساتھ کردیں میں نے اس شادی کو رکوانے کے لیے جو کرسکتی تھی کیا لیکن جب سب اس شادی پر راضی تھے۔تو میں اکیلی کیا کرسکتی تھیلیکن کسی صورت بھی میں یہ شادی ہونے نہیں دے سکتی تھی کیونکہ گناہ تو میں نے پہلے کرلیا تھا جو اولا د کی خاطر اپنے جیٹھ کے پاس چلی گئی تھی لیکن اب میں دوسرا گناہ ہونے دے سکتی تھی جس روز ان دونوں کی منگنی ہونے والی تھی چاررونا چار میں نے اپنے شوہر کو تمام واقعہ سچ سچ بتا دیا کہ کسی طرح میں نے اس کی مار پیٹ اورساس کے طعنوں سے تنگ آکر اس کے بھائی کو اس گناہ پر مجبور کیا تھامیرا شوہر جو کہ میری ساری بات سن کر ساکت ہی ہوگیا تھا کافی دیر تک خاموش بیٹھا رہا میں اس کے سامنے سرجھکائے اپنی سزا کی منتظر بیٹھی رہی کہ اپنے گناہ کی پاداش میں مجھے جو بھی سزا سنائی دئ گایں ہنس کر قبول کر لوں گیلیکن بہیں بھائی کی شادی کروانے کا گناہ میں نہیں کرسکتی تھی

کافی دیر گزرنے کے بعد میں نے نظریں اٹھا کر اپنے شوہر کو دیکھا تو اسے دیکھ کر میں ایک دم ٹھٹھک کر رہی گئی دراصل میں یہ شوچ رہی تھی کہ اب کے اب مجھے کیا سزا ملتی ہے ہوسکتا ہےکہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہو کیونہ میں نے اپنےشوہر کی پیٹھ پیچھے ہی بڑا گناہ کای تھا اور میں جانتی تھی کہ کوئی بھی مرد یہ بات برداشت نہیں کرسکتا لیکن میرا شوہر اپنی آنکھوں مین آنسو بھرے میرے سامنے اپنے دونوں ہاتھ جوڑے بیٹھا تھا وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولا سکینہ میں تمہارا بہت بڑا گناہ گار ہوں مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ میں تم سے کس طرح معافی مانگوں۔اگر میں اس وقت تمہیں مجبور نہ کرتا تو تم یہ گناہ کبھی نہ کرتیں لیکن مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ تم نے اس بات کو چھپانے کے بجائے کھل کر مجھے بتادی ہےاور ہم دونوں ایک بہت ہی بڑے گناہ سے بچ گئے ہیں ہو سکے تو مجھے معاف کردوکیونکہ میں نے تمہیں بہت دکھ دیا ہے

اپنے شوہر کی یہ باتیں سن کر میں بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی اور میں ے روروکر اپنے شوہر سے اپنے گناہ کی معافی مانگی پھر ہم دونوں نے مل کر اپنے بیٹے اور بھیتجی کے لیے رشتہ تلاش کرنا شروع کر دیامیری ساس اس بات پر سخت ناراض ہےجاری ہے۔ لیکن یہ بات میں اور میرا شوہر ہی جانتے ہیں کہ اپنے بیٹے اور بھتیجی کا رشتہ ہم کیوں نہیں کرسکتے مجبوری میں کئے گئے اپنے گناہ کی میں رات دن اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتی ہوں شاید میرا رب مجھے معاف کرد

Leave a Comment