حضرت علیؑ نے فرمایا: اپنی بیوی کو یہ چار باتیں کبھی مت بتانا

بیوی کو یہ چار باتیں

پاکستان ٹائمز! اسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ دوستو دنیا میں بے شمار انسان پیدا ہوئے جن میں اکثر ایسے ہوئے کہ ان میں کوئی کمال اور خوبی نہیں اور بعض لوگ ایسے ہوئے جو صرف چند خوبیاں رکھتے تھے مگر حضرت علی المرتضیٰؑ وہ ذات گرامی ہے جو بہت سے کمال اور خوبیوں کے مالک ہیںامیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالبؑ کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے

جس سے اپنے اور غیر سب مفکرین اور دانشور متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار گفتار اور اذکار پر غور کیا وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے بھی جب امام المتقينؑ کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے حضرت علیؑ کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔اس کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ کمال طہارت جادو بیانی حرارت ایمانی بلند حکمتی نرم خوئی جیسی صفات بھی موجود ہے کیونکہ اب شیر خدا بھی ہیں اور داماد مصطفیﷺ بھی حضرت علیؑ نبی اکرمﷺ کے چچا حضرت ابوطالبؑ کے بیٹے تھے اور بچپن ہی سے حضور اکرمﷺ ؑکے زیر سایہ تربیت پائی خواتین و حضرات جب حضرت محمدﷺ نے قبیلہ بنی ہاشم کے سامنے اسلام پیش کیا تو سب سے پہلے حضرت علی نے لبیک کہا اور اسلام کو قبول فرمایا اس وقت آپ کی عمر صرف اٹھارہ برس تھی آپ کو شجاعت کے علاوہ علم و فضل میں بھی کمال حاصل رہا

آپ کے خطبات سے کمال کی خوش بیانی اور فصاحت ٹپکتی ہے ایک مشہور حدیث ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور حضرت علیؑ اس کا دروازہ ہےحضرت علیؑ لوگوں سے اکثر فرمایا کرتے تھے پوچھو جو پوچھنا ہے پیشتر اس کے کہ لوگوں میں نہ رہوں پوچھنے والے پوچھتے رہے اور حضرت علیؑ بتاتے رہے ایک مرتبہ کا زکر ہے حضرت علیؑ کے پاس ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے امیر المومنینؑ میرے اور میری بیوی کے درمیان محبت نہیں ہے پیار نہیں ہے وہ ذرا ذرا سی بات پر مجھ سے ناراض ہو جاتی ہے بات بات پر جھگڑا کرنے لگتی ہے یا امیرالمومنینؑ ایسا کیوں ہو رہا ہے اس کا یہ کہنا تھا کہ حضرت علیؑ نے فرمایا ہے اے شخص چار ایسی باتیں ہیں جن کا ذکر تو اپنی بیوی کے سامنے کبھی مت کرنا وہ شخص گویا ہوا اے امیر المومنین کو کون سی چار باتیں ہیں حضرت علیؑ نے فرمایا۔

کہ تم کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اپنی کسی پریشانی کی وجہ سے مت رونا ورنہ تم بیوی کی نظروں میں ایک کمزور ترین انسان کہلائو گے اور دوسری بات یہ ہے کہ اس کی ہر جائز حاجت پوری کرو ہر جائز مراد پوری کرو مگر اپنی آمدنی کے متعلق اسے کبھی مت بتانا آپ نے فرمایا ہے اے شخص کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اپنے ماں باپ اپنے بہن بھائیوں کی برائی مت کرنا ورنہ بیوی کی نظروں میں تمہارے ماں باپ اور بہن بھائی کی عزت ختم ہو جائے گی اور چوتھی بات یہ کہ کبھی بھی اپنی بیوی کے سامنے اس کے ماں باپ اور اس کے بھائیوں کو اس کی بہنوں کو برا بھلا بھی مت کرنا ورنہ وہ تمہاری دشمن بن جائے گی یہ چار باتیں کبھی بھی اپنی بیوی کے ساتھ مت کرنا تو خواتین و حضرات آپ کو حضرت علیؑ کے فرمان اچھے لگے ہوں تو اپنے دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ شئیر ظرور کریں۔

Leave a Comment