آج کل لوگ مغرب کے بعد ولیمہ کرتے ہیں۔۔اسلام کااس پرحکم دیکھ لیں

مغرب کے بعد ولیمہ

پاکستان ٹائمز!مغرب کے بعد ولیمہ !سوال؛اگر ایک انسان کا نکاح ہوا عصر کی نماز کے بعد اور اُس نے مغرب کی نماز کے بعد ولیمہ کر دیا تو جواب :ہو تو جاتا ہے مگر یہ سنت کے خلاف ہے ۔۔سنت یہ ہے کہ نکاح ہو بیوی اپنے خاوند کے گھر جائے اور دونوں آپس میں ازدواجی تعلق قائم کریں تو اُس کے بعد ولیمہ کریں ۔یہ سنت ہے حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا نکاح میری سنت ہے

جو میری سنت پر عمل نہ کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اور نکاح کیا کرو اس لئے کہ تمہاری کثرت پر میں امتوںکے سامنے فخر کروں گا اور جس میں استطاعت ہو تو وہ نکاح کرلے اور جس میں استطاعت نہ ہو تو وہ روزے رکھے اس لئے کہ روزہ اس کی شہوت کو توڑ دے گا۔ اسلام نے نکاح میں مردوعورت کو پسند اور ناپسند کا اختیار دیا ہے اور بالغہ عورت سے بغیر اس کی اجازت کے نکاح کرنے سے منع کیا ہے۔بلکہ ایک دفعہ حضوراکرم ﷺ کے دور مبارک میں ایک عورت کا نکاح اس کی مرضی کے بغیر ہوا، اس نے آپﷺ سے عرض کیا تو آپ نے اس کا نکاح فسخ کردیا ۔ یہ روایات اس بارے میں خوب واضح ہیں کہ عورت کی پسند کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کا نکاح کیا جائے۔ثیبہ عورت کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور نہ باکرہ کا بغیر اس کی اجازت کے ولیمہ سنت ہے اور کوشش کریں کہ ولیمہ نکاح کے دوسرے دن کریں

اور یہ ضروری نہیں ہے کہ کس وقت مگر یہ لازم ہے کہ جب نکاح ہوجائے اور بیوی اپنے خاوند کے گھر چلی جائے اور ہمارے معاشرے میں یہ بھی مغرب کے بعد ولیمہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ بیوی نکاح کے بعد اگلی صبح اپنے ہاتھوں سے کوئی مٹھی چیز گھر میں تیار کرے

Leave a Comment